27 دسمبر بے نظیر بھٹو ایک عورت ایک ماں ایک تاریخ
27 دسمبر بے نظیر بھٹو ایک عورت ایک ماں ایک تاریخ
تحریر: ایس پیرزادہ
27
دسمبر محض ایک تاریخ نہیں یہ پاکستان کی سیاسی اور جذباتی تاریخ کا وہ زخم ہے جو آج بھی تازہ ہے یہ وہ دن ہے جب ایک عورت ایک ماں ایک بیٹی اور ایک عالمی قد کی لیڈر کو ہم سے
چھین لیا گیا بے نظیر بھٹو صرف ایک سیاسی رہنما نہیں تھیں وہ ایک علامت تھیں حوصلے کی مزاحمت کی اور قربانی کی مجھے آج بھی وہ لمحہ یاد ہے جب یہ خبر ملی سڑکیں سنسان تھیں بازار خاموش جیسے پورا ملک سکتہ طاری ہونے کی کیفیت میں ہو ایک عجیب ویرانی تھی جو صرف باہر نہیں دلوں کے اندر بھی اتر چکی تھی اس دن میری والدہ شدید علیل تھیں جب انہیں بے نظیر بھٹو کی شہادت کا علم ہوا تو ان کی آنکھوں میں جو دکھ اترا وہ آج بھی میری یادوں میں زندہ ہے میں اپنی ماں کے لیے بھی فکرمند تھی اور خود بھی ماں ہونے کے ناطے اس سانحے کو ایک الگ شدت سے محسوس کر رہی تھی میں ان عورتوں میں سے ہوں جنہوں نے آنکھ کھولتے ہی بے نظیر بھٹو کو دیکھا۔ وہ ہمارے لیے محض خبر نہیں تھیں وہ ایک آئیڈیل تھیں ایک ایسی عورت جو آمرانہ ادوار میں قید و بند جلاوطنی اور ذاتی المیوں کے باوجود سر اٹھا کر کھڑی رہی بطور بیٹی انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کا صدمہ جھیلا بطور بہو اور بیوی ایک سیاسی خاندان کے زخم سہے بطور ماں اپنے بچوں کو خطرات کے سائے میں پالا اور بطور لیڈر اپنی جان کی پروا کیے بغیر پاکستان واپس آئیں
اگر تاریخ کا دیانت دارانہ جائزہ لیا جائے تو شاید پاکستان میں کسی خاندان پر اتنا ظلم نہیں ہوا جتنا بھٹو خاندان پر ہوا ذوالفقار علی بھٹو ان کی اہلیہ نصرت بھٹو بے نظیر بھٹو ان کے بھائی سب نے اس ملک اور سیاست کی بھینٹ چڑھ کر قربانی دی یہ قربانیاں محض اقتدار کے لیے نہیں تھیں بلکہ جمہوریت عوامی حقِ حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے لیے تھیں
اللہ تعالیٰ ذوالفقار علی بھٹو بے نظیر بھٹو اور ان کی فیملی کے درجات بلند فرمائے مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج پیپلز پارٹی صرف ان ناموں کا سہارا لے کر سیاست کر رہی ہے نظریہ جدوجہد عوامی سیاست اور وہ جرات جو بے نظیر بھٹو کی پہچان تھی کہیں دکھائی نہیں دیتی مجھے ذاتی طور پر یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ ہی پیپلز پارٹی کی اصل سیاست بھی دفن ہو گئی آج بے نظیر بھٹو کے نام پر ووٹ تو مانگا جاتا ہے مگر ان کے خواب ان کا وژن ان کی جمہوری جدوجہد کہیں نظر نہیں آتی وہ عورت جو عالمی طاقتوں کے سامنے بھی پاکستان کے مفاد پر سمجھوتہ نہیں کرتی تھیں آج ان کے نام پر چلنے والی سیاست محض ایک نعرہ بن کر رہ گئی ہے سب سے تکلیف دہ بات ان کے ووٹرز سپورٹرز جو آج بھی ان کے نظریے پر ہیں ان سے عقیدت اور محبت رکھتےاور ہیں انھیں پس پشت رکھا گیا ہے یہ ان کے ساتھ ظلم اور زیادتی ہے ان کے مخالفین جو ان پر تنقید کیا کرتے تھے آج ان جیسا بننے کی کوشش میں ان کی تعریفوں کے انبار لگائے ہوئے ہیں وقت بہت کچھ ثابت کر دیتا ہے 27 دسمبر ہمیں صرف رونے کے لیے نہیں سوچنے کے لیے بھی آتا ہے سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے بے نظیر بھٹو کی قربانیوں کا حق ادا کیا؟ یا ہم نے انہیں بھی تاریخ کی فائلوں میں بند کر دیا؟ بے نظیر بھٹو ایک عورت نہیں تھیں وہ ایک عہد تھیں اور بدقسمتی سے وہ عہد ان کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔۔۔۔۔۔
وہ ایک نام نہیں تھی ایک عہد کی پہچان تھی
جو مٹی میں اتری تو جمہوریت نے آنکھ نم کی







































Visit Today : 408
Visit Yesterday : 560
This Month : 8698
This Year : 56534
Total Visit : 161522
Hits Today : 12340
Total Hits : 758784
Who's Online : 8






















