25 دسمبر جدوجہد قیادت اور امن کا دن
25 دسمبر جدوجہد قیادت اور امن کا دن
تحریر:ایس پیرزادہ
25
دسمبر ایک ایسی تاریخ ہے جو تاریخ کے دو بڑے اور بامعنی حوالوں کو اپنے اندر سمیٹے
ہوئے ہے یہ دن قائدِاعظم محمد علی جناح کی پیدائش کا دن بھی ہے اور دنیا بھر میں کرسمس کے طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کی یاد بھی منائی جاتی ہے یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک فکری ہم آہنگی ہے جو قیادت امن اور انسانیت کے مشترکہ پیغام کو سامنے لاتی ہے
قائدِاعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو پیدا ہوئے انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک سیاسی شعور دیا اور ایک ایسی جدوجہد کی قیادت کی جو اصول قانون اور آئینی راستے پر مبنی تھی ان کی سیاست میں جذبات کے بجائے دلیل نفرت کے بجائے انصاف اور انتقام کے بجائے برداشت نمایاں نظر آتی ہے انہوں نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ قومیں صرف طاقت سے نہیں بلکہ کردار اور نظم و ضبط سے بنتی ہیں قائدِاعظم کی جدوجہد کا مقصد ایک ایسی ریاست کا قیام تھا جہاں ہر فرد کو مذہب نسل اور زبان سے بالاتر ہو کر برابر کے حقوق حاصل ہوں ان کا وژن واضح تھا کہ پاکستان ایک فلاحی منصفانہ اور قانون کی بالادستی پر قائم ریاست ہو 11 اگست 1947 کی تقریر میں اقلیتوں کے حقوق پر دیا گیا پیغام اس بات کا ثبوت ہے کہ قائدِاعظم ایک وسیع النظر اور اصولی رہنما تھے دوسری جانب کرسمس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات کی یاد دہانی ہے جن کا پیغام محبت امن درگزر اور انسان دوستی پر مبنی تھا کرسمس ہمیں سکھاتا ہے کہ معاشرے نفرت سے نہیں بلکہ برداشت اور باہمی احترام سے آگے بڑھتے ہیں یہ دن انسان کو انسان سمجھنے اور کمزور کے حق میں کھڑے ہونے کا درس دیتا ہے
قائدِاعظم محمد علی جناح اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیغامات میں ایک مشترک قدر نمایاں ہے اور وہ ہے ظلم کے خلاف اصولی جدوجہد۔ دونوں شخصیات نے جبر کے سامنے خاموشی اختیار نہیں کی مگر ان کا راستہ تشدد نہیں بلکہ اخلاق سچائی اور صبر تھا یہی وہ اقدار ہیں جو کسی بھی معاشرے کو مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں آج جب دنیا عدم برداشت تقسیم اور انتشار کا شکار ہے 25 دسمبر ہمیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنی اجتماعی سمت کا ازسرنو جائزہ لیں کیا ہم قائدِاعظم کے نظریات کو اپنی عملی زندگی میں جگہ دے رہے ہیں اور کیا ہم امن اور انسانیت کے اس پیغام کو آگے بڑھا رہے ہیں جو کرسمس ہمیں دیتا ہے؟ 25 دسمبر محض یاد منانے کا دن نہیں بلکہ خود احتسابی کا دن ہے یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قیادت کا اصل مقصد اقتدار نہیں بلکہ خدمت ہے اور قوم کی ترقی کا راستہ انصاف برداشت اور باہمی احترام سے ہو کر گزرتا ہے یہی قائدِاعظم کا پیغام تھا اور یہی امن کا عالمی درس ہے اسی فکر اور اسی جدوجہد کو آج پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن کی قیادت بھی آگے بڑھا رہی ہے جو محنت کش طبقے کے حقوق عزت اور تحفظ کے لیے مسلسل آواز بلند کر رہی ہے فیڈریشن کے قائدین قائدِاعظم کے اس وژن پر یقین رکھتے ہیں کہ ریاست کی اصل طاقت اس کے محنت کش اور کمزور طبقات ہوتے ہیں جنہیں انصاف اور مساوی مواقع فراہم کیے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا مزدوروں کے حقوق خواتین کی شمولیت اور سماجی انصاف کے لیے کی جانے والی یہ جدوجہد دراصل اسی قیادت امن اور انسانیت کے تسلسل کا حصہ ہے جس کا پیغام 25 دسمبر ہمیں دیتا ہے اسی فکری تسلسل میں روزنامہ قوم کی وہ صحافتی روایت بھی قابلِ ذکر ہے جو عوامی مسائل محنت کشوں کے حقوق اور سماجی ناانصافیوں کے خلاف مسلسل آواز بلند کرتی آ رہی ہے میاں غفار صاحب کی قیادت میں یہ قوم اخبار محض خبر رسانی تک محدود نہیں رہا بلکہ حق گوئی دیانت اور جرات مندانہ صحافت کی ایک مثال بن چکا ہے ایسے پلیٹ فارم جہاں اصول سچ اور عوامی مفاد کو ترجیح دی جائے دراصل قائدِاعظم کے اس تصورِ قیادت کے عملی مظہر ہوتے ہیں جس میں قلم کو طاقت نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھا جاتا ہے






































Visit Today : 451
Visit Yesterday : 560
This Month : 8741
This Year : 56577
Total Visit : 161565
Hits Today : 13462
Total Hits : 759907
Who's Online : 6






















