ملتان :  ایم کیو ایم (پاکستان) کے سیکرٹری جنرل پنجاب کرامت علی شیخ نے کہا ہے کہ پنجاب کی ابادی سے کم ابادی پر مشتمل دنیا میں درجنوں ممالک، موجود ہیں جن میں ایران ،ترکی ملیشیا، ودیگر ممالک میں صوبے ہیں ایران کے 31صوبے ،ترکی میں بھی 81 صوبے ہیں ملیشیا، 16 صوبے، ہیں جہاں پر شہریوں کو بنیادی انسانی ضروریات زندگی باآسانی میسر ہیں اسی لیے یہاں پر بھی انتظامی بنیادوں پر الگ صوبے بننے چاہیں جس کی وجہ سے عام ادمی کے مسائل حل ہوں گے اور ملک ترقی کرے گا صوبے بھی ترقی کریں گےاور پسے ہوئے طبقات کی محرومیوں کا خاتمہ ممکن ہو گا شہر ترقی کریں گے اور گلی کوچوں کی ڈیویلپمنٹ ہوگی جو گزشتہ 78 برس سے انتہائی پسماندگی اور محرومیوں کا شکار ہیں دنیا بھر میں کم از کم15,15 لاکھ تک ابادی پر مشتمل صوبے موجود ہیں لیکن یہاں 12 کروڑ سے زائد ابادی تک صوبہ ہونے کی وجہ سے متوازن برقرار نہیں ہے اور شہریوں کو تعلیم صحت سمیت بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہے اس لیے حکومت نئے صوبوں کے قیام کے لیے سنجیدگی سے ذمہ داری کا مظاہرہ کرے حکومت انتظامی بنیادوں پر الگ صوبوں کے قیام بہت ضروری ہے ورنہ انے والی نسلوں کے لیے بہت مسائل پیدا ہونگے