بلدیاتی ایکٹ 2025 عوامی اختیارات پر کھلا ڈاکہ ہے ، غیر جماعتی اور بے اختیار بلدیاتی نظام آئین سے متصادم ہے: سید ذیشان اختر امیر جماعت اسلامی جنوبی پنجاب
ملتان : امیر جماعت اسلامی جنوبی پنجاب سید ذیشان اختر نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے منظور کیا گیا بلدیاتی ایکٹ 2025 عوام کے آئینی حقوق کو سلب کرنے کی منظم کوشش ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایکٹ بلدیاتی حکومتوں کو بااختیار بنانے کے بجائے انہیں مزید کمزور اور بے اختیار بنانے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی ملتان کے زیر اہتمام نواں شہر چوک پر بلدیاتی ایکٹ 2025 کے خلاف منعقدہ احتجاجی دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صہیب عمار صدیقی امیر جماعت اسلامی ضلع ملتان، عمر دراز فاروقی امیر جماعت اسلامی مظفرگڑھ، ڈاکٹر عمران فاروق امیر جماعت اسلامی خانیوال، خواجہ عاصم ریاض سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی ملتان، خواجہ صغیر احمد نائب امیر ضلع اور مولانا محمود بشیر ڈپٹی جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی جنوبی پنجاب بھی موجود تھے۔ سید ذیشان اختر نے کہا کہ آئین پاکستان کا آرٹیکل 140-A واضح طور پر اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ بلدیاتی حکومتیں بااختیار ہوں گی اور صوبائی حکومتیں انہیں اختیارات اور وسائل منتقل کریں گی، مگر موجودہ بلدیاتی ایکٹ میں اختیارات کی حقیقی منتقلی کے بجائے بیوروکریسی کو مضبوط کر دیا گیا ہے اور عوام کے منتخب نمائندوں کو عملی طور پر بے اختیار بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ایکٹ کے تحت عوام کو یونین کونسل کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کے براہ راست انتخاب کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے جبکہ مخصوص نشستوں پر نمائندگی بھی عوامی ووٹ کے بجائے شو آف ہینڈ کے ذریعے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جو جمہوری اصولوں اور عوامی حقِ نمائندگی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ عوام کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنے تمام نمائندے براہ راست ووٹ کے ذریعے منتخب کریں۔ امیر جماعت اسلامی جنوبی پنجاب نے مزید کہا کہ غیر جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کا فیصلہ دراصل ہارس ٹریڈنگ کو گلی اور محلوں تک پھیلانے کی راہ ہموار کرے گا۔ یہ وہی طرزِ سیاست ہے جس نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں جمہوریت کو نقصان پہنچایا اور اب اسی کلچر کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نظام کا اصل مقصد عوامی مسائل کا فوری اور مؤثر حل ہے، مگر جب مالی وسائل، ترقیاتی سکیموں اور فیصلہ سازی کا اختیار منتخب نمائندوں کے بجائے ڈپٹی کمشنر اور بیوروکریسی کے پاس ہو تو بلدیاتی نظام محض ایک نمائشی ڈھانچہ بن کر رہ جاتا ہے اور عوام کے مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔ سید ذیشان اختر نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی اس کالے بلدیاتی قانون کے خلاف پرامن، آئینی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی اور عوام کو ان کے حقوق سے آگاہ کرنے کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کی جائے گی۔ حکومت کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ آئین کے مطابق بااختیار بلدیاتی نظام نافذ کرے اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرے۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی ضلع ملتان صہیب عمار صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بلدیاتی ایکٹ 2025 عوام کو فیصلہ سازی کے حق سے محروم کرنے کی ایک واضح کوشش ہے۔ حکومت جمہوریت کے دعوے تو کرتی ہے مگر عملی طور پر عوامی نمائندگی کو ختم کر کے بیوروکریسی کے ذریعے نظام چلانا چاہتی ہے، جو نہ آئین کے مطابق ہے اور نہ ہی عوام کے مفاد میں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی سمجھتی ہے کہ جب تک اختیارات گلی اور محلے کی سطح تک منتقل نہیں ہوں گے، عوامی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ غیر جماعتی اور بے اختیار بلدیاتی نظام کے ذریعے حکومت عوام سے راہِ فرار اختیار کرنا چاہتی ہے، مگر جماعت اسلامی ملتان اس کالے قانون کے خلاف ہر آئینی اور جمہوری فورم پر بھرپور جدوجہد جاری رکھے گی اور عوام کے حقِ حکمرانی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔






































Visit Today : 450
Visit Yesterday : 560
This Month : 8740
This Year : 56576
Total Visit : 161564
Hits Today : 13456
Total Hits : 759901
Who's Online : 6






















