چیف جسٹس عالیہ نیلم کے ریمارکس: پراپرٹی آرڈیننس، قانون یا طاقت؟

تحریر: کلب عابد خان
03009635323

پاکستان میں عدلیہ ہمیشہ آئین کی بالادستی، شہریوں کے بنیادی حقوق اور ریاستی اداروں کے توازن کی علامت رہی ہے۔ حالیہ دنوں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محترمہ عالیہ نیلم کے پراپرٹی آرڈیننس سے متعلق ریمارکس اور اس پر جاری ہونے والا نوٹس محض ایک قانونی پیش رفت نہیں بلکہ ایک وسیع تر سماجی اور آئینی سوال کو جنم دیتا ہے۔ یہ سوال یہ ہے کہ کیا ریاستی فیصلے عوامی مفاد میں ہو رہے ہیں یا مخصوص طبقوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے؟
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پراپرٹی آرڈیننس کے بعض نکات پر جو سخت سوالات اٹھائے، وہ دراصل اس پورے نظام پر عدم اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں جو برسوں سے عوام کو انصاف دینے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ پراپرٹی سے متعلق قوانین پاکستان میں ہمیشہ تنازعات، قبضہ مافیا، لینڈ گریبرز اور طاقتور طبقوں کے گرد گھومتے رہے ہیں، جبکہ عام شہری اپنی چھوٹی سی زمین یا گھر کے تحفظ کے لیے عدالتوں کے چکر لگانے پر مجبور رہتا ہے۔
پراپرٹی آرڈیننس کا بنیادی مقصد بظاہر تو نظام کو بہتر بنانا اور تیز انصاف کی فراہمی بتایا جا رہا ہے، مگر چیف جسٹس کے ریمارکس نے اس دعوے کو مشکوک بنا دیا ہے۔ عدالت کا یہ سوال بالکل بجا ہے کہ کیا کسی آرڈیننس کے ذریعے شہریوں کے بنیادی حقوق کو محدود کیا جا سکتا ہے؟ اور کیا انتظامیہ کو یہ اختیار دیا جا سکتا ہے کہ وہ عدالتی دائرہ اختیار کو کمزور کر دے؟
یہ کوئی پہلی بار نہیں کہ کسی آرڈیننس پر عدالت نے سوال اٹھایا ہو۔ ماضی میں بھی کئی ایسے قوانین اور صدارتی یا حکومتی آرڈیننس آئے جنہیں بعد ازاں عدلیہ نے آئین سے متصادم قرار دیا۔ مسئلہ یہ نہیں کہ حکومت قانون سازی کیوں کر رہی ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیا یہ قانون سازی شفاف، مشاورت پر مبنی اور آئینی حدود کے اندر ہے یا نہیں۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم کا یہ کہنا کہ “عدالتیں آنکھیں بند کر کے قوانین کو قبول نہیں کر سکتیں” دراصل اس عزم کی نشاندہی کرتا ہے کہ عدلیہ کسی بھی صورت آئین کے محافظ کے کردار سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ یہ ریمارکس ان لاکھوں شہریوں کے لیے امید کی کرن ہیں جو برسوں سے پراپرٹی کے مقدمات میں پس رہے ہیں اور جن کے لیے انصاف ایک خواب بن چکا ہے۔
پاکستان میں پراپرٹی کا مسئلہ صرف قانونی نہیں بلکہ سماجی اور معاشی بھی ہے۔ زمین اور جائیداد یہاں طاقت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ جس کے پاس طاقت ہے، وہ قانون کو اپنے حق میں موڑ لیتا ہے، اور جو کمزور ہے، اس کے حصے میں صرف تاریخ پر تاریخ آتی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی آرڈیننس طاقتور کو مزید طاقت دے اور کمزور کی آواز کو دبائے تو اس پر سوال اٹھانا عدلیہ کا فرض بنتا ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ آرڈیننس کا راستہ اکثر اس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب پارلیمان میں بحث سے بچنا مقصود ہو۔ حالانکہ آئین واضح طور پر کہتا ہے کہ قانون سازی کا اصل فورم پارلیمان ہے، نہ کہ ایوانِ اقتدار میں بیٹھے چند افراد۔ چیف جسٹس کے نوٹس نے حکومت کو یہ پیغام دیا ہے کہ قانون سازی میں شارٹ کٹ اب قابل قبول نہیں۔
عدالت کا کردار صرف فیصلے سنانا نہیں بلکہ ریاستی اداروں کو آئینی حدود یاد دلانا بھی ہے۔ پراپرٹی آرڈیننس پر نوٹس اسی آئینی توازن کی ایک مثال ہے۔ اگر عدلیہ خاموش رہتی تو یہ ایک خطرناک روایت قائم ہو سکتی تھی، جس میں ہر آنے والی حکومت آرڈیننس کے ذریعے عوامی حقوق پر قدغن لگاتی۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اس معاملے کو انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے سنجیدگی سے چیف جسٹس کے ریمارکس کا جائزہ لے۔ بہتر یہی ہوگا کہ پراپرٹی قوانین پر تمام اسٹیک ہولڈرز، وکلا، عدالتی ماہرین اور عوامی نمائندوں سے مشاورت کی جائے، تاکہ ایسا قانون بنایا جا سکے جو واقعی عوام کے مفاد میں ہو، نہ کہ چند مخصوص حلقوں کے لیے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم کا یہ اقدام اس بات کی دلیل ہے کہ عدلیہ آج بھی زندہ ہے، باخبر ہے اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے کھڑی ہے۔ اگر اس نوٹس کے نتیجے میں قانون میں اصلاح ہوتی ہے تو یہ صرف عدلیہ کی کامیابی نہیں بلکہ عام شہری کی جیت ہوگی۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ریاست اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب اس کے ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں۔ پراپرٹی آرڈیننس پر عدالتی نوٹس ایک یاد دہانی ہے کہ آئین سب سے بالاتر ہے، اور کوئی بھی قانون، کوئی بھی آرڈیننس، اس سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔