کرپشن کے گڑھ: کون سے ادارے سب سے زیادہ بدعنوان اور قانون کی گرفت سے باہر ، کیوں؟
کرپشن کے گڑھ: کون سے ادارے سب سے زیادہ بدعنوان اور قانون کی گرفت سے باہر کیوں؟
تحریر : کلب عابد خان 03009635323
پاکستان میں کرپشن صرف ایک لفظ نہیں، بلکہ ایک منظم نظام بن چکی ہے۔ ہر سال انٹرنیشنل اینٹی کرپشن ڈے منایا جاتا ہے، وعدے کیے جاتے ہیں، تقاریر ہوتی ہیں، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ بدعنوانی کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہی ہے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر سب سے زیادہ کرپشن کن اداروں میں ہے اور وہ قانون کی گرفت میں کیوں نہیں آتے؟
اگر ایمانداری سے جائزہ لیا جائے تو سب سے زیادہ کرپشن اُن اداروں میں ہے جہاں عوام کا روزمرہ براہِ راست واسطہ ہوتا ہے۔ ان میں سرفہرست ریونیو ڈیپارٹمنٹ (پٹواری، تحصیلدار، رجسٹری دفاتر) آتا ہے۔ زمین کی فرد ہو، انتقال، رجسٹری یا قبضہ—ہر مرحلہ رشوت کے بغیر تقریباً ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ جعلی انتقال، ڈبل رجسٹریاں اور ریکارڈ میں رد و بدل معمول بن چکا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ زمینوں کا اصل ریکارڈ انہی لوگوں کے پاس ہے جن پر کرپشن کے سب سے زیادہ الزامات ہیں، اسی لیے یہ ادارہ قانون کی گرفت سے بچ نکلتا ہے۔
دوسرے نمبر پر پولیس ڈیپارٹمنٹ آتا ہے، جہاں ایف آئی آر سے لے کر چالان تک ہر مرحلہ “ریٹ لسٹ” کے تحت چلتا ہے۔ جھوٹے مقدمات، کمزور تفتیش، ملزمان کے ساتھ دِل کھول کر ڈیلیں، منشیات و قبضہ مافیا کی پشت پناہی—یہ سب اب راز کی بات نہیں رہی۔ پولیس کو اس لیے کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے کہ وہ خود تفتیشی ادارہ بھی ہے اور محافظ بھی۔ محکمانہ انکوائریاں اکثر فائلوں میں دفن ہو جاتی ہیں، اور سیاسی سفارش افسران کے لیے ڈھال بن جاتی ہے۔
تیسرے نمبر پر ترقیاتی ادارے اور بلدیاتی محکمے (LDA، CDA، MDA وغیرہ) ہیں۔ نقشوں کی منظوری، غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیمیں، اربوں روپے کے ٹھیکے اور کمیشن—یہ سب ایک منظم کاروبار کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ یہاں ٹھیکے دار، سیاست دان اور بیوروکریسی ایک ہی چین میں جڑے ہوتے ہیں، اس لیے ان اداروں کے خلاف کارروائی اکثر کاغذوں سے آگے نہیں بڑھتی۔
واپڈا، سوئی گیس، پی ٹی سی ایل اور دیگر یوٹیلیٹی ادارے بھی کرپشن کے بڑے مراکز ہیں۔ جعلی میٹر ریڈنگ، بل کم کرانے کی رشوت، ناجائز کنکشن اور بجلی و گیس چوری میں اہلکاروں کی ملی بھگت عام بات ہے۔ صارف کمزور اور افسر طاقتور ہوتا ہے، اس لیے زیادہ تر کیسز سمجھوتوں پر ختم ہو جاتے ہیں۔
اسی طرح تعلیم اور صحت کے محکمے بھی بدعنوانی سے محفوظ نہیں۔ جعلی بھرتیاں، بغیر حاضری تنخواہیں، ادویات کی خردبرد اور ناقص ٹھیکے ایک المیہ بن چکے ہیں۔ آڈٹ رپورٹس آتی ہیں، مگر ان پر کبھی عملدرآمد نہیں ہوتا، کیونکہ ادارے اپنے لوگوں کو خود ہی بچا لیتے ہیں۔
ٹیکس اور کسٹمز کے ادارے (FBR، ایکسائز، کسٹمز) میں کرپشن کا دائرہ اربوں روپے تک پھیلا ہوا ہے۔ اسمگلنگ میں سہولت کاری، انڈر انوائسنگ، جعلی ریفنڈز اور ٹیکس چوری “ڈیل” کے ذریعے معمول بن چکی ہے۔ چونکہ یہاں بڑے کاروباری مفادات جڑے ہوتے ہیں، اس لیے تفتیش جیسے ہی کسی طاقتور شخصیت تک پہنچتی ہے، دباؤ شروع ہو جاتا ہے۔
عدالتی نظام سے وابستہ ماتحت عملہ بھی بدعنوانی سے مبرا نہیں۔ تاریخیں لگوانا، نقل حاصل کرنا، فائل آگے بڑھوانا—سب کچھ غیر رسمی نرخوں کے تحت چلتا ہے۔ عام سائل شکایت سے اس لیے گھبراتا ہے کہ اسے اپنے مقدمے کے نقصان کا خوف ہوتا ہے۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ یہ ادارے قانون کی مضبوط گرفت میں کیوں نہیں آتے؟ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں احتساب طاقتور کے لیے نہیں، کمزور کے لیے ہوتا ہے۔ احتسابی ادارے مکمل طور پر آزاد نہیں، بلکہ سیاسی دباؤ کے تحت کام کرتے ہیں۔ اکثر ایسے ہی ہوتا ہے کہ جیسے ہی کوئی انکوائری بااثر شخصیت تک پہنچتی ہے، افسر کا تبادلہ، فائل کی بندش یا گواہوں کو خاموش کرا دیا جاتا ہے۔
ایک اور بڑی وجہ یہ ہے کہ اکثر ادارے خود اپنی تفتیش کرتے ہیں۔ پولیس پولیس کی انکوائری کرتی ہے، ریونیو اپنا احتساب خود کرتا ہے، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک دوسرے کو بچا لیا جاتا ہے۔ سزاؤں کا خوف نہ ہونے کے برابر ہے۔ دس میں سے ایک کیس بھی اگر منطقی انجام تک پہنچ جائے تو اسے بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔
عوام کو بھی تحفظ حاصل نہیں۔ جو شہری رشوت کے خلاف آواز اٹھاتا ہے، اسے دھمکیاں، انتقامی کارروائیاں اور جھوٹے مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یوں لوگ مجبوراً خاموش رہنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں کرپشن صرف چند افراد کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک پورا نظامِ مفادات بن چکی ہے، جس میں سیاست، بیوروکریسی، مافیا اور کمزور احتساب ایک ہی زنجیر کے کَڑی ہیں۔ اگر ان زنجیروں کو توڑنے کی سنجیدہ کوشش نہ کی گئی تو محض تقاریر، سیمینارز اور عالمی دن منانے سے کرپشن کا ایک فیصد بھی کم نہیں ہوگا۔
کرپشن کا خاتمہ تبھی ممکن ہے جب:
احتسابی ادارے سیاسی اثر سے مکمل آزاد ہوں
طاقتور اور کمزور کے لیے قانون ایک جیسا ہو
نچلی سطح پر مکمل ڈیجیٹل نظام نافذ کیا جائے
شکایت کنندہ کو تحفظ دیا جائے
اور فیصلوں پر بلا امتیاز عملدرآمد ہو
جب تک یہ سب نہیں ہوتا، تب تک یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ:
پاکستان میں کرپشن چند اداروں کی خرابی نہیں، بلکہ پورے نظام کی بیمار روح بن چکی ہے۔




































Visit Today : 134
Visit Yesterday : 538
This Month : 15698
This Year : 15698
Total Visit : 120686
Hits Today : 360
Total Hits : 485903
Who's Online : 6























