پنجاب اسمبلی کی منظوری اور بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی: جنوبی پنجاب کی تعلیمی تقدیر کا نیا موڑ
پنجاب اسمبلی کی منظوری اور بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی: جنوبی پنجاب کی تعلیمی تقدیر کا نیا موڑ
تحریر: کلب عابد خان
پنجاب اسمبلی کی جانب سے حالیہ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، ملتان کے دائرۂ اختیار کو پورے پنجاب تک بڑھانے کی منظوری ایک بظاہر انتظامی فیصلہ ضرور ہے، مگر حقیقت میں یہ جنوبی پنجاب سمیت پورے صوبے کے تعلیمی مستقبل کے لیے ایک تاریخی موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف ایک یونیورسٹی کے اختیارات میں توسیع ہے بلکہ تعلیمی مساوات، علاقائی توازن اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ کی جانب ایک سنجیدہ قدم بھی ہے۔
بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی عوامی جامعہ ہے، جو دہائیوں سے اس خطے کے ہزاروں طلبہ کا مستقبل سنوار رہی ہے۔ تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ یہ ادارہ طویل عرصے تک محدود وسائل، انتظامی مشکلات اور دائرۂ اختیار کی تنگی کا شکار رہا۔ پنجاب اسمبلی کی حالیہ منظوری نے پہلی مرتبہ اس ادارے کو صوبائی سطح پر وسعت دے دی ہے، جو اس کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔
اس ترمیمی منظوری کے بعد اب بی زیڈ یو پورے پنجاب میں کالجز کو الحاق دینے، نئے ذیلی کیمپس قائم کرنے، جدید تعلیمی پروگرام متعارف کروانے اور تحقیقی سرگرمیوں کو وسعت دینے کی مجاز ہو چکی ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ ان طلبہ کو پہنچے گا جو دور افتادہ، دیہی اور پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں اور بڑے شہروں میں تعلیم حاصل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اب انہیں اپنے علاقوں میں معیاری اعلیٰ تعلیم کے مواقع میسر آ سکتے ہیں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی خود بھی مالی و انتظامی بحران سے نکل کر استحکام کی جانب گامزن ہے۔ حالیہ برسوں میں یونیورسٹی نے اپنے بڑے مالی خسارے پر قابو پایا، ڈیجیٹل نظام متعارف کروایا، نئے تعلیمی شعبہ جات قائم کیے اور عالمی سطح پر بھی اپنی پہچان کو بہتر کیا۔ پنجاب اسمبلی کی یہ منظوری دراصل ان اصلاحاتی اقدامات پر اعتماد کا اظہار بھی ہے۔
تاہم اس خوش آئند پیش رفت کے ساتھ چند سنجیدہ سوالات بھی جنم لیتے ہیں جن پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کیا یونیورسٹی کے پاس اتنے وسائل، تجربہ کار فیکلٹی، انفراسٹرکچر اور انتظامی اہلیت موجود ہے کہ وہ پورے پنجاب میں اپنے اختیارات کو مؤثر انداز میں نبھا سکے؟ کیا توسیع کے ساتھ ساتھ تعلیمی معیار، میرٹ اور شفافیت کو بھی برقرار رکھا جا سکے گا؟ اگر ان پہلوؤں کو نظرانداز کیا گیا تو یہ توسیع فائدے کے بجائے مسائل میں اضافے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
یہاں حکومت کے ساتھ ساتھ خود یونیورسٹی انتظامیہ پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس توسیع کو سیاسی اثر و رسوخ سے بالاتر ہو کر خالصتاً تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ الحاق کے تمام مراحل میں میرٹ، شفافیت اور معیار کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، تاکہ یہ فیصلہ واقعی ایک تعلیمی انقلاب کی صورت اختیار کر سکے۔
جنوبی پنجاب برسوں سے تعلیمی محرومی کی علامت بنا ہوا ہے۔ بڑے تعلیمی ادارے، جدید تحقیقی مراکز اور فنڈنگ ہمیشہ صوبے کے وسطی اور شمالی علاقوں تک محدود رہی۔ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کو پورے پنجاب کا دائرۂ اختیار ملنا اس دیرینہ محرومی کے ازالے کی ایک مضبوط امید ہے—بشرطیکہ اسے دیانت داری، حکمت اور وژن کے ساتھ نافذ کیا جائے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ پنجاب اسمبلی کی یہ منظوری محض ایک ادارے کا معاملہ نہیں بلکہ یہ آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل، علمی ترقی اور صوبے میں تعلیمی توازن کے قیام سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر اس فیصلے کو درست پالیسی اور خلوص نیت کے ساتھ عملی جامہ پہنایا گیا تو بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی نہ صرف جنوبی پنجاب بلکہ پورے پاکستان میں علم و تحقیق کا ایک مضبوط مرکز بن کر ابھر سکتی ہے۔




































Visit Today : 140
Visit Yesterday : 538
This Month : 15704
This Year : 15704
Total Visit : 120692
Hits Today : 371
Total Hits : 485914
Who's Online : 8























