ملتان :  پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر روبینہ اختر نے کہا ہے کہ وانا میں کیڈٹ کالج پر دہشتگردوں کا حملہ انتہائی قابلِ مذمت ہے، تاہم پاک فوج نے بروقت اور بہادری سے کارروائی کرتے ہوئے ایک بڑے سانحے کو ٹال کر قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے،انہوں نے کہا کہ فوج کی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے جوان ملک و قوم کے تحفظ کے لیے ہر لمحہ تیار ہیں اور پوری قوم ان کے ساتھ ہے،ڈاکٹر روبینہ اختر نے کہا کہ اسلام آباد کچہری حملہ کیس میں بے گناہ جانوں کا ضیاع قابلِ افسوس ہے، دہشتگردی کا یہ سلسلہ خطے میں پھیلتی ہوئی بھارتی پراکسی وار کا تسلسل ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان بھارت کے مفادات کے لیے کام کر رہا ہے، حالانکہ پاکستان نے اس ملک کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور آج بھی لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان کی سرزمین پر مقیم ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ ایسے عناصر کو منہ توڑ جواب دیا جائے، انہوں نے کہا کہ پشاور امن جرگہ سے امید ہے کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت اور مثبت تجاویز کی روشنی میں ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا تاکہ اس ناسور کا جڑ سے خاتمہ ممکن بنایا جا سکے، ڈاکٹر روبینہ اختر نے 27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس ترمیم پر عوامی سطح پر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں، سیاسی جماعتیں اس ترمیم کی آڑ میں اپنے اپنے مفادات کا تحفظ کر رہی ہیں، جبکہ عوام کے لیے اس میں کچھ بھی نہیں رکھا گیا، انہوں نے کہا کہ جو ایک دوسرے کو سڑکوں پر گھسیٹنے کی باتیں کرتے تھے، آج ایک دوسرے کو استثنیٰ دلانے کے لیے حمایت کر رہے ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں عوام کے حصے میں صرف مہنگائی، بے روزگاری اور دہشتگردی آئی ہے، جبکہ حکمران طبقہ اقتدار کی بندر بانٹ میں مصروف ہے۔یہ باتیں انہوں نے مظفرآباد پل پر منعقدہ خواتین و حضرات کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔