ملتان(صفدربخاری سے) ایوانِ تجارت و صنعت ملتان کے صدر میاں بختاور تنویر شیخ نے کہا ہے کہ سول ڈیفنس کا کردار صنعتی و شہری تحفظ کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے، صنعتی شعبے کی ترقی اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سول ڈیفنس کی کاوشیں قابل تعریف ہیں۔ ان باتوں کا اظہار انہوں نے ایوان کے عہدیداران اور ممبران سے ایک آگہی سیشن کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقعہ پر خواجہ سہیل طفیل، احتشام الحق، عقیل قریشی، محمد اکرام، ڈاکٹر شاہد، سیکرٹری جنرل محمد شفیق اور دیگر بھی موجود تھے۔ میاں بختاور تنویر شیخ نے کہا کہ فیکٹریوں اور کارخانوں میں آتشزدگی کے واقعات زیادہ تر ناقص بجلی کی وائرنگ، حفاظتی نظام نہ ہونے اور فائر سیفٹی کے حوالے سے غفلت کے باعث سامنے آتے ہیں، ایسے حالات میں سول ڈیفنس کے عملے کی بروقت کارروائی قیمتی جان و مال کو بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں غیر قانونی پٹرول پمپس اور ایل پی جی ری فلنگ سٹیشن شہری آبادی کے لیے سنگین خطرہ ہیں، ان جگہوں پر نہ تو حفاظتی اقدامات ہوتے ہیں اور نہ ہی تربیت یافتہ عملہ موجود ہوتا ہے، اس کے باوجود یہ کاروبار جاری رہنا باعث تشویش ہے۔ انہوں نے کہا بعض اوقات فائر سیفٹی اور حادثات سے بچاؤ کے لیے عملی اقدامات کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے جو بعد میں بڑے حادثات کی شکل اختیار کرتے ہیں،ایسے واقعات میں انسانی جانوں کا ضیاع ناقابل تلافی ہوتا ہے اور اس کا کوئی متبادل نہیں۔ میاں بختاور تنویر شیخ نے کہا کہ فیکٹری مالکان چالان اور کارروائی کے انتظار میں نہ رہیں بلکہ خود ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، حفاظتی آلات نصب کریں اور انہیں ہر وقت فعال رکھیں، عملے کی تربیت کو یقینی بنائیں اور جدید فائر سیفٹی سسٹمز اپنائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت اور متعلقہ ادارے فیکٹریوں میں حادثات کی روک تھام کے لیے فعال ہیں جو قابل تحسین ہے مگر ضروری ہے کہ پہلے فیکٹری مالکان کو وارننگ اور مکمل آگاہی فراہم کی جائے تاکہ صنعتوں کے شعبے میں بہتر ماحول پیدا ہو اور حادثات کی شرح میں نمایاں کمی آئے۔ اس موقع پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر سول ڈیفنس نوشابہ مہوش نے بتایا کہ سول ڈیفنس انڈسٹریل یونٹس کی باقاعدہ انسپیکشن کر رہا ہے، عملے کو فائر سیفٹی ٹریننگ دی جا رہی ہے اور تعلیمی اداروں میں بھی آگاہی پروگرام جاری ہیں، انہوں نے کہا کہ ایل پی جی ری فلنگ پوائنٹس پر کم عمر بچوں کا کام کرنا انتہائی خطرناک عمل ہے جس کا سخت نوٹس لیا گیا ہے، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر گزشتہ دو ماہ میں 150 مقدمات درج کیے گئے ہیں جبکہ غیر قانونی ایرانی تیل فروخت کرنے والے مراکز کے خلاف بھی کارروائی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حادثات ہمیشہ چھوٹے پیمانے سے شروع ہوتے ہیں لیکن لاپرواہی انہیں بڑا سانحہ بنا دیتی ہے، لہٰذا صنعتکاروں اور اداروں کو مل کر مؤثر حکمت عملی اپنانا ہوگی تاکہ جانی اور مالی نقصان سے محفوظ رہا جا سکے۔