ڈپریشن

ایک ایسے معاشرے کی کہانی جہاں کامیابی کے شور میں احساس کی آواز دب جاتی ہے مسکراہٹوں کے پیچھے چیخیں چھپ جاتی ہیں اور ذہنی دباؤ خاموشی سے انسان کو اندر سے توڑ دیتا ہے

تحریر: ایس پیرزادہ

اسلام آباد پولیس کے ایک باصلاحیت نوجوان سی ایس پی افسر نے مبینہ طور پر خودکشی کرلی یہ خبر صرف ایک فرد کی زندگی کے اختتام کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والی ہے یہ اس درد کی کہانی ہے جو کامیابی شہرت، عہدے اور تعلیم کے پردے کے پیچھے چھپا رہتا ہےان کی آخری باتوں نے اس حقیقت کو بے نقاب کر دیا کہ انسان چاہے کتنا ہی کامیاب کیوں نہ ہو، اگر اندر سے ٹوٹ جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے سنبھال نہیں سکتی ذہنی دباؤ دکھائی نہیں دیتا مگر اس کے زخم جسمانی زخموں سے کہیں زیادہ گہرے ہوتے ہیں افسوس کہ ہمارے معاشرے میں سب ٹھیک ہے کا جھوٹا تاثر لوگوں کو اندر ہی اندر گھٹنے پر مجبور کر دیتا ہے نصیحتیں طعن و تشنیع اور بے حسی کسی کے دکھ کا علاج نہیں ہوتیں ذہنی مسائل سمجھنے، احساس کرنے اور تعاون دینے سے حل ہوتے ہیں یہ پہلا واقعہ نہیں اس سے پہلے بھی کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ سی ایس ایس اور سی ایس پی افسران جیسے ڈاکٹر حسن عسکری ذیشان رانجھا اور کچھ دیگر افسران نے خودکشی جیسا انتہائی قدم اٹھایا یہ واقعات ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں آخر ایسا کیا ہے کہ جنہیں ہم قابلِ فخر سمجھتے ہیں وہی زندگی سے ہار مان لیتے ہیں؟
قرآنِ پاک میں واضح الفاظ میں ارشاد ہے
اور اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو بے شک اللہ تم پر مہربان ہے
(سورۃ النساء، آیت 29)
خودکشی اسلام میں حرام ہے احادیث کے مطابق جو شخص خودکشی کرتا ہے وہ قیامت تک اسی اذیت کو بار بار سہتا رہے گا جس سے اس نے جان لی پھر آخر کیا وجہ ہے کہ اتنی تعلیم اتنا شعور اور اتنی عزت پانے کے باوجود انسان اپنی جان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے؟ اس کا جواب شاید یہی ہے کہ ہم نے انسان کو دیکھنا چھوڑ دیا ہے ہم کامیابی کو ناپنے لگے مگر احساس کو بھول گئے ہم سوشل میڈیا پر خوشیوں کے چہرے دیکھتے ہیں مگر ان چہروں کے پیچھے چھپے درد کو محسوس نہیں کرتے میں خود اس درد اور اس جنگ سے گزر چکی ہوں جب میں نے اپنے ادارے میں ہراسمنٹ کے خلاف آواز اٹھائی مجرم با اثر تھے اور مردوں کے معاشرے میں سپورٹ بھی مرد کو تھیں یہ ایک اعصابی جنگ تھی جو انسان کے حوصلے اور اعصاب دونوں کو توڑ دیتی ہے اس دوران مجھے ڈپریشن اور انزائٹی نے اپنی لپیٹ میں لیامیں کئی بار اسپتال داخل ہوئی مگر اللہ تعالیٰ کے فضل میرے بچوں اور میرے خاندان کی غیر متزلزل سپورٹ نے مجھے سنبھالا میری تربیت ایک ایسے گھرانے میں ہوئی جہاں قرآنِ پاک سے رشتہ بچپن ہی سے مضبوط تھا میں نے زندگی کے آغاز میں خودکشی کے چند واقعات دیکھے جنہوں نے میرے اندر یہ احساس پیدا کیا کہ انسان چاہے کسی حال میں ہو زندگی کا مقابلہ کرنا ہی اصل ایمان ہے میں نے اپنے ڈپریشن کا علاج کروایا مگر سب سے بڑا علاج قرآنِ پاک اور اللہ پر توکل نے کیا میری زندگی کبھی پھولوں کی سیج نھیں رہی خودکشی کا خیال میرے ذہن میں کبھی نہیں آیا کیونکہ ایمان نے مجھے مضبوط رکھا میں جانتی ہوں کہ جو زندگی اللہ نے عطا کی ہے وہ اسی کے حکم سے واپس لی جاتی ہے اسی لیے میرا ایمان ہے کہ اگر ہم قرآنِ پاک کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں اور اپنے بچوں کی تربیت اس روشنی میں کریں تو وہ کبھی ایسے انتہائی قدم تک نہیں پہنچیں گے ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ زندگی میں مشکلات آتی ہیں مگر ہر مشکل کا حل ہے ہر اندھیرے کے بعد روشنی ہےگھریلو مسائل مالی دباؤ اور سماجی توقعات انسان کو توڑ دیتے ہیں مگر اگر ہم ایک دوسرے کے ساتھ احساس محبت اور تعاون کا رشتہ قائم کر لیں تو کوئی بھی انسان خود کو تنہا محسوس نہیں کرے گا ہمیں اپنے اردگرد موجود لوگوں کے چہروں رویوں خاموشیوں اور آنکھوں میں جھانکنا ہوگا اگر کوئی حساس یا پریشان دکھائی دے تو اسے نصیحت نہیں ساتھ دیں اس کا ہاتھ تھامیں اس کا حال سنیں اس کی تنہائی کو بانٹیں زندگی ایک تحفہ ہے اور رشتے وہ پناہ گاہیں ہیں جو انسان کو ڈوبنے سے بچا سکتی ہیں زندگی بہت چھوٹی ہے
اگر ہم کسی کے لیے آسانی نہیں پیدا کر سکتے تو کم از کم اس کی زندگی کو مشکل بھی نہ بنائیں ہمیں ایک دوسرے کے لیے روشنی امید اور سہارا بننا ہے کیونکہ کبھی کبھار ایک تم اکیلے نہیں ہو جیسا جملہ کسی کی زندگی بچا لیتا ہے