سٹیٹ بینک 19 نومبر کو ویمن انٹرپرینیورشپ ڈے بھرپور انداز میں منائے گا، خواتین کے لیے خصوصی مالیاتی سہولتیں اور تربیتی پروگرامز کا اعلان
ملتان: سٹیٹ بینک ملتان کے چیف منیجر ظہیر صابر نے کہا ہے کہ مرکزی بینک خواتین کی معاشی ترقی اور بااختیاری کے لیے متعدد منصوبوں پر کام کر رہا ہے اور 19 نومبر کو ویمن انٹرپرینیورشپ ڈے بھرپور انداز میں منایا جائے گا جس کے تحت خواتین کے لیے خصوصی مالیاتی سہولتیں، تربیتی پروگرامز اور کاروباری مواقع فراہم کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ان باتوں کا اظہار گزشتہ روز انہوں نے ایوانِ تجارت و صنعت ملتان میں صدر میاں بختاور تنویر شیخ سے ملاقات کے دوران کیا۔اس موقعہ پر ڈپٹی چیف عدیل خان، اسسٹنٹ ڈائریکٹر کرن امجد، نوید چغتائی، سیکرٹری جنرل ایوان محمد شفیق اور ساجد انصاری بھی موجود تھے۔چیف منیجر نے کہا کہ خواتین پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، اسی لیے سٹیٹ بینک خواتین کو کاروباری میدان میں آگے لانے اور انہیں مالی نظام سے جوڑنے کے لیے مختلف منصوبے شروع کر چکا ہے، جن میں خصوصی قرضہ اسکیمیں، ڈیجیٹل بینکنگ تک رسائی، اور مالی خواندگی کے پروگرام شامل ہیں تاکہ خواتین کو اپنے کاروبار قائم کرنے اور وسعت دینے میں آسانی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ویمن انٹرپرینیورشپ کے فروغ سے نہ صرف خواتین کا معیارِ زندگی بہتر ہوگا بلکہ ملکی معیشت بھی مضبوط ہوگی۔اس ملاقات میں ملکی معیشت کے استحکام، ڈیجیٹل اور کیش لیس اکانومی کے فروغ، اسلامی بینکنگ کے فروغ اور کاروباری برادری کو سہولیات کی فراہمی پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیف منیجر ظہیر صابر نے کہا کہ حکومت اور سٹیٹ بینک کی بھرپور کوشش ہے کہ کاروباری برادری کو کیش لیس نظام کی جانب راغب کیا جائے تاکہ شفاف، محفوظ اور جدید کاروباری ماحول فروغ پا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک بھر کے تجارتی مراکز، بشمول ملتان کی گردیزی مارکیٹ، گلشن مارکیٹ، اور غلہ منڈی میں دکانداروں کو QR کوڈز مہیا کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال کے نتائج حوصلہ افزا اور مثبت ہیں، اور کاروباری طبقہ تیزی سے ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کو اپنا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بینکنگ نظام کو اسلامی خطوط پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں عوام اور کاروباری برادری کے خدشات دور کرنے کے لیے آگاہی سیشنز کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے۔ ظہیر صابر نے کہا کہ کاروباری طبقے کی تجاویز کو حکومت تک پہنچایا جائے گا تاکہ بینکنگ سیکٹر میں مزید بہتری لائی جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ معیشت میں پائیدار استحکام کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ ملتان چیمبر اور سٹیٹ بینک کے درمیان دیرینہ اور مضبوط تعلقات ہیں، اور آئندہ بھی باہمی تعاون جاری رہے گا۔ صدر چیمبر میاں بختاور تنویر شیخ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ کاروباری طبقے کو ریلیف فراہم کرے اور انہیں بینکنگ نظام میں سرمایہ رکھنے کی ترغیب دے۔ انہوں نے تجویز دی کہ سرمایہ بیرونِ نظام لے جانے پر پابندی عائد کی جائے تاکہ پیسہ ملک کے اندر گردش میں رہے اور ڈاکومنٹڈ اکانومی کو فروغ ملے۔ میاں بختاور نے کہا کہ سٹیٹ بینک ایک مستحکم ادارہ ہے جس میں ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو کامیابی سے آگے بڑھایا گیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ چیمبر ویمن انٹرپرینیورشپ کے فروغ کے لیے سٹیٹ بینک کے ساتھ مشترکہ پروگرامز ترتیب دے گا تاکہ خواتین کو بھی معاشی دھارے میں شامل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے کیونکہ نوجوان نسل اس سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ اگر حکومت اور مالیاتی ادارے مل کر اس شعبے پر توجہ دیں تو پاکستان ڈیجیٹل معیشت کی دوڑ میں نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔ یہ ملاقات ملتان میں بینکنگ اور کاروباری شعبے کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہے جس سے نہ صرف ڈیجیٹل اور اسلامی بینکنگ کے فروغ کو تقویت ملے گی بلکہ معیشت میں استحکام اور شفافیت کا نیا دور شروع ہوگا۔






































Visit Today : 224
Visit Yesterday : 511
This Month : 10618
This Year : 58454
Total Visit : 163442
Hits Today : 2101
Total Hits : 801527
Who's Online : 4






















