ورک پلیس ہراسمنٹ مریم نواز کے لیے براہِ راست پیغام

خواتین کا متفقہ مطالبہ

تحریر: ایس پیرزادہ

28ستمبر کو انرویل انٹرنیشنل آرگنائزیشن روہی کلب کے زیراہتمام ایک یادگار نشست منعقد ہوئی جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین نے شرکت کی مجھے بطور کالم نگار اور چیف گیسٹ وہاں شریک ہونے کا موقع ملا۔ یہ صرف ایک سادہ تقریب نہیں تھی بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم تھا جہاں خواتین نے اپنی جدوجہد مشکلات اور معاشرتی رکاوٹوں کے باوجود اپنی کامیابیوں کو شیئر کیا اور ایک دوسرے کو حوصلہ دیا
اس موقع پر شریک خواتین میں ڈاکٹر منال ڈرماٹولوجسٹ آئی پی پی ایسٹھیٹکس رضوانہ گیلانی صدرڈاکٹر رضیہ ارم سیکرٹری شازیہ واہگہ رضوانہ یوسف حالہ فاطمہ اور دیگر معزز خواتین شامل تھیں سب نے اس حقیقت کی نشاندہی کی کہ پاکستان میں ورک پلیس ہراسمنٹ ایک سنگین اور بڑھتا ہوا مسئلہ ہے خواتین نے بتایا کہ سرکاری اور نجی اداروں میں نہ صرف انہیں ہراسانی کا سامنا ہے بلکہ انصاف کے حصول کی راہیں بھی ان کے خلاف استعمال کی جاتی ہیں انکوائری سسٹم اس قدر سست اور پیچیدہ ہے کہ اکثر متاثرہ خاتون اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے اور اس کے خلاف جھوٹے الزامات لگا کر اسے مزید ذلیل و خوار کیا جاتا ہے
شرکاء نے متفقہ طور پر یہ کہا کہ جس طرح وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے CCD قانون متعارف کروا کر بروقت انصاف کی ایک نئی مثال قائم کی اسی طرح انہیں ورک پلیس ہراسمنٹ کے حوالے سے بھی فوری سخت اور مؤثر قانون سازی کرنی چاہیے ایک ایسا قانون جس کے تحت ہراسمنٹ کے مقدمات 30 یا 60 دن کے اندر نمٹائے جائیں تاکہ خواتین عزت اور وقار کے ساتھ اپنے روزگار کو جاری رکھ سکیں
یہاں ایک اور نہایت اہم پہلو زیرِ بحث آیا کہ پنجاب میں جنوبی پنجاب کی نمائندگی کرنے والے سب سے بڑے سرکاری چینل پی ٹی وی ملتان سینٹر میں ہراسمنٹ اقربا پروری اور میرٹ کے قتل کے واقعات ادارے کے ماحول کو زہر آلود کر رہے ہیں اس پر مختلف صحافی تجزیہ نگار اور کالم نگار مسلسل سوالات اٹھا رہے ہیں خواتین کا متفقہ مطالبہ تھا کہ مریم نواز اس پر فوری نوٹس لیں ایک آزاد اور شفاف انکوائری کمیشن تشکیل دیں اور ادارے کا مکمل آڈٹ کروائیں تاکہ میرٹ کی بحالی اور متاثرہ خواتین کو انصاف فراہم کیا جا سکے
نشست میں شریک خواتین نے مریم نواز کے عوام دوست پروگرامز جیسے صاف ستھرا پنجاب دھی رانی پروگرام تعلیمی اور فلاحی اقدامات کو سراہا لیکن ساتھ ہی یہ پیغام بھی دیا کہ خواتین کی ترقی صرف انفراسٹرکچر یا سہولتوں سے نہیں بلکہ ان کے تحفظ اور وقار کو یقینی بنانے سے وابستہ ہے اگر ورک پلیس ہراسمنٹ کے خلاف فوری اور سخت قانون سازی نہ کی گئی تو یہ خاموش عفریت ہزاروں خواتین کا مستقبل تباہ کر دے گا
بطور کالم نگار میں یہ بات پوری ذمہ داری کے ساتھ کہتی ہوں کہ وقت کا سب سے بڑا مطالبہ یہی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز ورک پلیس ہراسمنٹ کے خلاف فوری سخت اور مؤثر قانون سازی کریں یہ صرف خواتین کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے اگر آج اس پر عملی اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی
وزیر اطلاعت و نشریات عطا تارڈ صاحب کی خاص توجہ کی ضرورت ہے