دورِ حاضر میں شہری دفاع کی اہمیت ،،، قومی ذمہ داری اور حکومت پنجاب کی ترجیحات
دورِ حاضر میں شہری دفاع کی اہمیت — قومی ذمہ داری اور حکومت پنجاب کی ترجیحات
تحریر: غضنفرملک گروپ وارڈن
دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کے انقلاب نے جہاں سہولتوں کے دروازے کھولے ہیں، وہیں خطرات کی نوعیت بھی پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو گئی ہے۔ آج کے دور میں صرف جنگی خطرات نہیں، بلکہ قدرتی آفات، حادثات، دہشت گردی، صنعتی سانحات، ماحولیاتی تبدیلیاں اور شہری ہنگامی حالات بھی ہر معاشرے کے لیے بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔
ایسے حالات میں شہری دفاع (Civil Defence) کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ شہری دفاع دراصل ایک ایسا منظم نظام ہے جو عوام کو ہنگامی حالات میں خود کو اور دوسروں کو محفوظ رکھنے کے قابل بناتا ہے۔ یہ نہ صرف جنگی دور میں بلکہ امن کے زمانے میں بھی جان و مال کے تحفظ، آگ بجھانے، ابتدائی طبی امداد دینے، اور متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
دورِ حاضر میں شہری دفاع محض ایک محکمہ نہیں، بلکہ قومی شعور کا نام ہے۔ یہ ادارہ عوامی آگاہی، رضاکارانہ تربیت، اور ہنگامی ردِعمل کے نظام کو مضبوط بناتا ہے۔ اگر کوئی آفت اچانک آ جائے تو سب سے پہلے یہی تربیت یافتہ رضاکار میدانِ عمل میں اُترتے ہیں اور قیمتی جانوں کو بچاتے ہیں۔
شہری دفاع کا مقصد یہ نہیں کہ لوگ صرف حکومت پر انحصار کریں، بلکہ ہر شہری کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ خود ایک محافظ کا کردار ادا کرے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو ایک مضبوط اور باشعور معاشرہ تشکیل دیتا ہے۔
حالیہ سیلاب — ایک سبق، ایک امتحان
پاکستان نے حالیہ برسوں میں اپنی تاریخ کے سب سے بڑے سیلاب کا سامنا کیا۔ لاکھوں لوگ متاثر ہوئے، ہزاروں گھر، بازار اور فصلیں تباہ ہو گئیں۔ اس ہنگامی صورتحال میں جہاں مختلف ادارے سرگرمِ عمل تھے، وہیں پنجاب بھر میں شہری دفاع ملتان کے رضاکاروں نے ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔ وزیراعلی پنجاب کے وژن کی تکمیل کیلئے کنٹرولر سول ڈیفینس ڈپٹی کمشنر ملتان وسیم حامدسندھو، ریجنل اسسٹنٹ ڈائریکٹر سول ڈیفنس نوشابہ مہوش ، سول ڈیفینس آفیسر شکیب احمد اور ان کی ٹیم 24 گھنٹے سرگرم عمل رہے اور کنٹرولر/ڈپٹی کمشنر ودیگر افسران خود معاملات کی مانیٹرنگ کرتے رہے اس حوالہ سے چیف انسٹرکٹر ز عبدالقدیر، قاری خواجہ عاشق حسین کا کردار قابل ستائش تھا
یہ رضاکار حقیقی معنوں میں فرنٹ لائنرز ثابت ہوئے۔ پانی کے ریلاے میں اتر کر انہوں نے متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا، امدادی سامان پہنچایا، بیماروں اور بزرگوں کو سہارا دیا، اور اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر خدمتِ خلق کی ایسی مثال قائم کی جو سنہری حروف میں لکھی جائے گی۔
ان رضاکاروں نے ہراول دستے کے طور پر سیلاب متاثرین کی خدمت کی، اور یہ ثابت کیا کہ شہری دفاع صرف ایک محکمہ نہیں بلکہ انسانیت کا فریضہ ہے۔ ان کی یہ خدمات نہ صرف قابلِ ستائش ہیں بلکہ ایک پیغام بھی دیتی ہیں کہ مرد ہو یا عورت، بوڑھا ہو یا جوان، ہر فرد کو شہری دفاع کا حصہ بننا چاہیے۔
حالیہ سیلاب نے ہمیں جھنجھوڑ کر یہ احساس دلایا ہے کہ ہمیں بطور قوم سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔ ہمیں اپنی نسلوں کو محض کتابی تعلیم نہیں بلکہ عملی تربیت دینا ہوگی تاکہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں خود بھی محفوظ رہیں اور دوسروں کی مدد بھی کر سکیں۔
شہری دفاع میں شمولیت صرف رضاکارانہ سرگرمی نہیں، یہ ایک قومی ذمہ داری ہے۔ شہری دفاع کی تربیت ہمیں نظم و ضبط، قربانی، خدمتِ خلق اور حب الوطنی جیسے اوصاف سکھاتی ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ ملک کی خدمت صرف ہتھیار اٹھانے سے نہیں، بلکہ انسانیت کی خدمت سے بھی کی جا سکتی ہے۔
شہری دفاع ہمارے معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ یہ ادارہ ہمیں سکھاتا ہے کہ آفات کے وقت گھبراہٹ نہیں، بلکہ ہمت، اتحاد اور عمل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہر شہری اس نظام کا حصہ بن جائے، تو کوئی آفت ہمیں ہرا نہیں سکتی۔
آئیے! ہم سب عہد کریں کہ شہری دفاع کے اس مقدس مشن کا حصہ بنیں گے، اس کی تربیت حاصل کریں گے، اور اپنے ملک، اپنی قوم اور اپنے ہم وطنوں کے لیے ہمیشہ خدمت کے جذبے کے ساتھ تیار رہیں گے۔
کیونکہ محفوظ قوم ہی مضبوط قوم ہوتی ہے۔






































Visit Today : 138
Visit Yesterday : 511
This Month : 10532
This Year : 58368
Total Visit : 163356
Hits Today : 1372
Total Hits : 800798
Who's Online : 1






















