میاں راشد اقبال کی حکومت اور اسٹیٹ بینک سے پالیسی ریٹ میں فوری کمی کی اپیل
ملتان : سابق صدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، میاں راشد اقبال نے حکومت پاکستان اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے پالیسی ریٹ میں فوری کمی اور سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ پر تیسری میٹنگ بھی ہو چکی ہے، مگر تاجر اور صنعتکار برادری کو شدید مایوسی کا سامنا ہے کیونکہ شرح سود میں آدھا فیصد کی بھی کمی نہیں کی گئی۔ تمام کاروباری حلقے پرامید تھے کہ شرح سود میں کم از کم 9 فیصد تک کمی کی جائے گی، اور آئندہ میٹنگ میں اسے مزید کم کر کے 6 فیصد تک لایا جائے گا، تاکہ صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے۔ لیکن حالیہ فیصلے سے نہ صرف مایوسی پھیلی ہے بلکہ اقتصادی ترقی کی رفتار بھی متاثر ہو رہی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ جب حکومت کے اپنے اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ مہنگائی کی شرح 3.5 فیصد تک آ چکی ہے تو پھر پالیسی ریٹ میں کمی نہ کرنا ناقابل فہم ہے۔ اس وقت حکومت پر خود 4.5 ٹریلین روپے کے بینک قرضے کا بوجھ ہے، اور اگر شرح سود میں کمی کی جاتی ہے تو اس سے حکومت پر بھی مالی دباؤ کم ہو گا، اور معیشت کو ایک نیا استحکام ملے گا۔میاں راشد اقبال نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر اور وزارت خزانہ سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ پالیسی ریٹ پر فوری نظر ثانی کریں تاکہ ملک کی صنعتی پیداوار، برآمدات، اور روزگار کے مواقع متاثر نہ ہوں۔مزید برآں، انہوں نے سیلاب متاثرین کی حالتِ زار پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سردیوں کا موسم قریب ہے، اور جن خاندانوں کے گھر تباہ ہو چکے ہیں ان کے لیے فوری ریہبلیٹیشن (بحالی) کا آغاز کیا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ نقصانات کا فوری تخمینہ لگا کر عملی اقدامات کرے تاکہ متاثرین کو سردی سے قبل عارضی نہیں بلکہ مستقل چھت میسر آ سکے۔انہوں نے کہا کہ یہ وقت زبانی دعووں کا نہیں، عملی اقدامات کا ہے۔ سیلاب متاثرین اور کاروباری برادری دونوں کی نظریں حکومت پر ہیں۔ اگر بروقت فیصلے نہ کیے گئے تو اس کے سنگین معاشی و انسانی نتائج سامنے آئیں گے۔






































Visit Today : 138
Visit Yesterday : 511
This Month : 10532
This Year : 58368
Total Visit : 163356
Hits Today : 1378
Total Hits : 800804
Who's Online : 1






















