ملتان: معروف ٹیکسیشن ماہر اور ملتان ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے سینئر رکن عرفان علی صدیقی نے کہا ہے کہ ٹیکس کا نظام کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، مگر پاکستان میں بدقسمتی سے اس نظام کو مستحکم بنانے کے بجائے اسے تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کی جانب سے بار بار کی جانے والی غیر ضروری تبدیلیاں اور غیر فعال آن لائن پورٹل ٹیکس گزاروں کے اعتماد کو بری طرح متاثر کر رہا ہے، حکومت کو چاہیے کہ ٹیکس دہندگان کو آسانیاں فراہم کرے، نہ کہ مشکلات میں ڈالے۔ عرفان علی صدیقی نے کہا کہ ملک بھر میں ٹیکس گزار اپنے سالانہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے لیے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے یکم جولائی کے بعد سے اب تک آئرس سسٹم میں تین مرتبہ تبدیلیاں کی ہیں، جس کے نتیجے میں ٹیکس دہندگان کو غیر معمولی پریشانی کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی حالیہ تبدیلی کے تحت ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں ایک نیا کالم شامل کیا گیا ہے جس نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ آئرس پورٹل پر نہ تو گوشوارے جمع ہو رہے ہیں اور نہ ہی سابقہ ریکارڈ ڈاؤن لوڈ کیا جا رہا ہے، جس کے باعث ہزاروں افراد اپنے کاغذات مکمل کرنے کے باوجود ریٹرنز فائل کرنے سے قاصر ہیں۔ عرفان علی صدیقی نے کہا کہ 30 ستمبر کی آخری تاریخ تیزی سے قریب آ رہی ہے اور اس صورتحال نے ٹیکس گزاروں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اگر یہی حالت برقرار رہی تو لاکھوں افراد گوشوارے جمع کرانے سے محروم رہ جائیں گے، جس سے حکومت کی ریونیو وصولی کو بھی شدید نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے حکومت اور ایف بی آر سے پرزور مطالبہ کیا کہ اس سنگین مسئلے کو فوری طور پر سنجیدگی سے لیتے ہوئے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع کا اعلان کیا جائے تاکہ عوامی دباؤ میں کمی ہو اور ٹیکس دہندگان مکمل اور درست دستاویزات کے ساتھ اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کر سکیں۔