بیوہ، طلاق یافتہ عورت اور ہمارا معاشرتی رویہ
بیوہ، طلاق یافتہ عورت اور ہمارا معاشرتی رویہ
تحریر: ایس پیرزادہ
کافی دنوں سے بہت سی پوسٹ اور ویڈیوز دیکھنے میں آئی جہاں بہت سی خواتین اپنی بیوگی اور طلاق پر بات کرتے ہوئے دکھی اور اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے تکلیف میں نظر آئیں کے انہوں نے اپنے گھر بسانے کے لیے کیا کچھ برداشت کیا سوچا اس پر لکھنا چاہئیے ہمارا معاشرہ بظاہر مذہبی اور مشرقی اقدار کا دعویدار ہے لیکن حقیقت میں جب بات بیوہ اور طلاق یافتہ عورت کی آتی ہے تو ہمارا رویہ نہایت تلخ اور ظالمانہ ثابت ہوتا ہے عورت جو اپنے شوہر کے ساتھ زندگی گزارنے کی عادی ہوتی ہے جب اچانک بیوگی یا طلاق کا صدمہ جھیلتی ہے تو اس کے کاندھوں پر وہ بوجھ بھی آجاتا ہے جو عام طور پر معاشرے میں مرد کا فرض سمجھا جاتا ہے اسے بچوں کی پرورش گھر کا نظام اور اپنی بقا کی جنگ اکیلے لڑنی پڑتی ہے گویا اسے عورت ہونے کے ساتھ ساتھ مرد بھی بننا پڑتا ہے ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جب ایک بیوہ یا طلاق یافتہ عورت کام کے لیے باہر نکلتی ہے تو اسے عزت کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا بلکہ اکثر لوگ اسے ایک کمزور شکار سمجھ لیتے ہیں بہت سے مرد یہ سمجھتے ہیں کہ یہ عورت مجبور ہے لہٰذا اس پر کسی بھی طرح کا بوجھ ڈالنا یا ناپسندیدہ رویہ اختیار کرنا ان کا حق ہے یہ سوچ انتہائی گھناؤنی اور ناقابلِ قبول ہے ایک عورت کی عزت کا دارومدار اس کے شوہر کے زندہ یا موجود ہونے سے مشروط نہیں ہونا چاہیےمزید یہ کہ جب کوئی عورت ایک سے زیادہ شادیاں کرتی ہے یا اسے بار بار رشتہ ازدواج میں ناکامی ملتی ہے تو معاشرہ فوراً اس کے کردار پر انگلیاں اٹھانے لگتا ہے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اس عورت نے کتنی قربانیاں دیں اپنے گھر کو بچانے کی کتنی کوشش کی یا بیوگی کی صورت میں یہ صدمہ اس پر کس طرح قہر بن کر ٹوٹاہمارے ہاں طلاق یا بیوگی کو عورت کا قصور قرار دینا عام ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں فطری یا مجبوری حالات ہیں جن پر کسی انسان کا اختیار نہیں
اسلام نے بیوہ اور طلاق یافتہ عورت کو سب سے زیادہ عزت اور سہارا دیا ہے قرآن پاک میں اللہ پاک ارشاد فرماتے ہیں اور مطلقا عورتوں کومناسب طور پر فائدہ دینا واجب ہے یہ
پرہیزگار وں پر حق ہے
(سورہ بقرہ 241″2)
یہ آیت ہمیں واضح پیغام دیتی ہے کہ طلاق یافتہ عورت کی کفالت اور اس کے ساتھ بھلائی کرنا مسلمانوں پر لازم ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی متعدد شادیاں بیوہ یا مطلقہ خواتین سے کیں تاکہ امت کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ ایسی عورت کو عزت اور سہارا دینا عین سنت ہے حضرت خدیجہؓ بیوہ تھیں حضرت سودہؓ اور حضرت امِ سلمہؓ بیوگی کے بعد آپؐ کے نکاح میں آئیں یہ عمل ہمارے لیے روشن مثال ہے
بدقسمتی سے ہمارے مشرقی معاشرے میں آج بھی بیوہ یا طلاق یافتہ عورت کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے گاؤں اور شہروں میں ایسی عورتوں پر چہ میگوئیاں کی جاتی ہیں ان کے کردار پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں یہاں تک کہ بعض اوقات انہیں شادی کے لیے بھی ناپسندیدہ تصور کیا جاتا ہے یہ رویہ نہ صرف غیر اسلامی ہے بلکہ غیر انسانی بھی ہے ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارے گھروں میں بھی بہنیں اور بیٹیاں ہیں جن کے نصیب کیا ہوں گے یہ صرف اللہ جانتا ہے بیوہ یا مطلقہ عورت خصوصاً اگر وہ بچوں کی ماں ہے ایک کٹھن جدوجہد سے گزرتی ہے وہ دن رات محنت کر کے اپنے بچوں کی تعلیم اور پرورش کرتی ہے اکثر اوقات وہ اپنے بچوں کی خاطر اپنی خوشیوں کو قربان کر دیتی ہے مگر افسوس کہ معاشرہ اس قربانی کو نظر انداز کرتا ہے اور الٹا اس کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیتا ہےمیرا ذاتی تجربہ ہے کہ ایک ورکنگ لیڈی کے طور پر جب باہر نکلتی ہوں تو بہت سے لوگ بظاہر عزت سے بات کرتے ہیں لیکن جب عملی مدد کی بات آتی ہے تو ان کا رویہ بدل جاتا ہے عورت کو عزت کی نظر سے دیکھنے کے بجائے اسے کمزور اور استعمال کے قابل سمجھنا ایک انتہائی تکلیف دہ حقیقت ہے جسے بدلنے کی ضرورت ہےبیوہ یا طلاق یافتہ عورت ہماری ماں بہن اور بیٹی جیسی ہونی چاہیے ہمیں چاہیے کہ ان کے ساتھ کھڑے ہوں ان کی مشکلات بانٹیں اور ان کے بچوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں اسلام ہمیں یہی درس دیتا ہے کہ ایسے موقع پر ان کا سہارا بنیں نہ کہ ان کی زندگی کو مزید تلخ کر دیں اگر ہم نے آج اپنے رویے درست نہ کیے تو کل کو ہماری اپنی بچیاں بھی انہی کٹھن راستوں سے گزر سکتی ہیں کیونکہ ماں باپ جنم دے سکتے ہیں کرم نھیں معاشرے کی اصل ترقی تب ہوگی جب ہم عورت کو اس کی اصل عزت اور مقام دیں گے اللہ پاک ہم سب کی بہن بیٹیوں کے نصیب اچھے کرے ہر ماں باپ کو اپنے بچوں کی خوشیاں دیکھنا نصیب فرمائے آمین ثمہ آمین
وہ عورت جو اکیلی سب بوجھ سہہ جاتی ہے
درحقیقت وہی معاشرے کی اصل معمار ہوتی ہے






































Visit Today : 138
Visit Yesterday : 511
This Month : 10532
This Year : 58368
Total Visit : 163356
Hits Today : 1383
Total Hits : 800809
Who's Online : 1






















