ملتان:  سی ای او ایجوکیشن ملتان ڈاکٹر صفدر حسین واہگہ نے کہا ہے کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کے تعلیمی ویژن کی روشنی میں معیار تعلیم میں بہتری اور شرح خواندگی میں اضافہ اولین ترجیح ہے . سرکاری سکولوں میں بچوں کے لیے سازگار ماحول کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات اور سیکرٹری ایجوکیشن پنجاب خالد نزیر وٹو کی قیادت و رہنمائی میں تعلیمی اصلاحات کے مثبت نتائج برامد ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول لاڑ ملتان کے نئے پرنسپل ڈاکٹر رانا قمر عباس کو چارج سنبھالنے پر مبارک باد دینے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈی ای او سیکنڈری سکولز منور حسین کمال، سینیئر سماجی رہنما و ماہر تعلیم میاں نعیم ارشد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل (ڈی ای اے ملتان) محبوب اشرف، اسسٹنٹ ایجوکیشن افیسر بہاول قیوم، سینیئر ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول جگو والا جلال پور اسلم خان قیصرانی، سینیئر ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول چک 14 فیض ظفر خان بابر، سینیئر ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول جلال پور کھاکھی مالک محمد اسلام، پرنسپل گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول بدھلہ سنت مہر اعجاز حسین چاون، سینیئر ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول الہ اباد تحصیل شجاع اباد چوہدری ذوالفقار علی، ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول بستی رڈ ملک محمد جمیل، پرنسپل گورنمنٹ ہائی سکول ٹاٹے پور عامر حسین، امجد حسین انصاری، خواجہ عزیر رضا، ملک حفیظ الرحمن سوئیہ، راؤ شرافت علی، ڈاکٹر حمید اللہ ذوالقرنین، رانا ممتاز نون، مہر ارشد واہگہ ، عبدالرشید ارشد، رائے خالد محمود، جاوید واہگہ، ماحد علی راؤ، سابق پرنسپل رانا جاوید مصطفی، جام شاہد اور خالد محمود کھچی نے مبارک باد دی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا ۔ سی ای او ایجوکیشن ملتان ڈاکٹر صفدر حسین واہگہ نے مزید کہا کہ اساتذہ کرام اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں تاکہ معیار تعلیم کو بہتر بنایا جا سکے۔ سی ای او ایجوکیشن ڈاکٹر صفدر حسین واہگہ نے مزید کہا کہ ڈاکٹر رانا قمر عباس کی بطور پرنسپل تعیناتی خوش ائند ہے، ڈاکٹر رانا قمر عباس فرض شناس، تجربہ کار اور انتظامی امور کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ اساتذہ کرام اور طلبہ ان کی صلاحیتوں سے استفادہ حاصل کریں گے۔ ڈی ای او سیکنڈری سکولز ملتان منور حسین کمال نے کہا کہ اساتذہ محنت اور لگن کو شعار بنائیں اور وقت کی پابندی کریں۔ سلیبس کو مدنظر رکھ کر تعلیمی اہداف مکمل کیے جائیں۔ اساتذہ کرام بچوں کے والدین سے قریبی رابطہ رکھیں اور والدین کو طلبہ کی تعلیمی کارکردگی سے اگاہ کریں تاکہ سرکاری سکولوں بارے والدین کے اعتماد کو بحال کیا جا سکے ۔