ملتان: آلٹرنیٹو ریسرچ انیشیٹو اور SUN کنسلٹنٹ کے زیرِ اہتمام سموکرز کے ساتھ آ گاہی میٹنگ کا انعقاد ڈسٹرکٹ بار روم ضلع ملتان میں کیا گیا۔میٹنگ کا آ غا ز کرتے ہوئے سلطان محمود نے بتایا کہ ARIاورSUN مل کر ضلع ملتان میں سگریٹ نوشی کے خلاف آ گاہی مہم چلا رہے ہیں جس کے تحت 8 آ گاہی سیشن تعلیمی اداروں میں ،مختلف کمیونیٹیز کے منعقد کیے جا چکے ہیں۔جس میں 500 سے زیادہ افراد نے شرکت کی اور تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں اس کو استعمال نہ کرنے کا تہیہ بھی کیا۔اس کے ساتھ ساتھ میڈیا پر بھی ایک بھرپور مہم بذریعہ آرٹیکل چلایی جا رہی ہے۔پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عبد السمیع نے بتایا کہ پاکستان میں سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اس کی وجوہات میں قوانین میں عملدرآمد نہ ہونا شامل ہے۔قانون تو موجود ہے کہ پبلک مقامات پر سگریٹ نہیں پیا جا سکتا مگر ہر طرف کھلے تمام لوگ بس سٹاپ پر دفاتر میں سگریٹ کا استعمال کرتے ہیں۔اس سے نہ صرف وہ خود سانس کی نالیوں اور پھیپھڑوں کے کینسر کا شکار ہوتے ہیں بلکہ ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے افراد بھی سیکنڈ ہینڈ سموکنگ کے سبب بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور اس کے علاو ¿ہ سگریٹ پینے کے بعد وہ جگہ بھی متاثرہ جگہ ہوتی ہے اور وہ جراسیم اس جگہ پر آ نے والوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سابقہ MPA نفیس احمد انصاری نے تمباکو نوشی کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر پالیسی سازی کی ضرورت پر زور دیا اور حکومت کی توجہ اس بات کی طرف مرکوز کرای کہ سگریٹ پر حکومت ٹیکس میں اضافہ تو کر رہی ہے مگر مقامی سطح پر تیار کی جانے والی سگریٹ کی حوصلہ شکنی نہیں کی جاتی جو کہ نسبت سکتی ہے مگر انسانی صحت کے لیے لیوا ہے۔اس موقع پر سماجی رہنما نقرالرمین خاکوانی ،فراست علی ایڈووکیٹ اور ریڈیو پاکستان نے قمر عباس ہاشمی نے بھی خطاب کیا۔میٹنگ کے آخر میں بارروم سے یہ قرارداد پاس کی کہ وکلائ کے چیمبرز کو سگریٹ نوشی سے پاک سے قرار دی جائے تاکہ سائ لین اور دوسرے افراد کو بھی سگریٹ نوشی کو ترک کرنے کی طرف ترغیب مل سکے