پاکستان اور سعودی عرب کا معاہدہ حرمین شریفین کی حفاظت قوم کا فخر اور قبلہ اول کی پکار

تحریر: ایس پیرزادہ

آج کا دن تاریخ میں ایک روشن باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ہونے والا یہ عظیم معاہدہ صرف دو ملکوں کی سفارتی یا دفاعی شراکت داری نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے دل کی دھڑکن اور حرمین شریفین کی حفاظت کے عہد کا استعارہ ہے
جب سعودی عرب کی سرزمین پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم پوری شان سے لہرا رہا تھا تو ہر پاکستانی کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی یہ منظر اس حقیقت کی علامت ہے کہ پاکستان صرف ایک خطۂ زمین کا نام نہیں بلکہ لا الہ الا اللہ کے عظیم اصول پر قائم وہ قلعہ ہے جس کا وجود ہی اسلام کی بقا اور سربلندی کے لیے ہے قائداعظم کا پاکستان آج ایک بار پھر دنیا کے سامنے اپنے حقیقی تشخص کے ساتھ کھڑا دکھائی دیا
قرآنِ پاک ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایمان صرف لفظوں کا نہیں بلکہ عمل کا تقاضا ہے یہی عمل آج اس معاہدے کی صورت میں دنیا کے سامنے آیا ہے یہ پیغام ہے کہ ہم اپنے مقدسات اپنی حرمت اور اپنی شناخت کی حفاظت کے لیے متحد ہیں وہ طاقتیں جو ہمارے اتحاد کو توڑنے کے خواب دیکھتی رہتی ہیں آج اُنہیں یقیناً اپنی شکست صاف دکھائی دے رہی ہوگی
لیکن یہاں ایک سوال اپنی پوری شدت سے سامنے آتا ہے
اگر حرمین شریفین کی حفاظت ہمارا ایمان ہے تو کیا قبلہ اول بیت المقدس ہماری ذمہ داری نہیں؟ وہ سرزمین جہاں سے معراج کی برکتیں وابستہ ہیں جہاں انبیاء کے قدموں کی خوشبو ہے کیا وہ ہم سے یہ سوال نہیں پوچھ رہی کہ میری آزادی اور حفاظت کے لیے تمہارا کردار کہاں ہے؟
یہ سوال ہمیں تڑپا دیتا ہے کہ ہماری یکجہتی صرف جزوی نہ ہو بلکہ مکمل ہو حرمین کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ہمیں القدس کی آزادی کے لیے بھی متحد اور فعال ہونا ہوگا یہی امتِ مسلمہ کے اصل اتحاد اور ہماری ذمہ داری کا تقاضا ہے یہ معاہدہ محض جذباتی تسکین نہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے پاکستان کو چاہیے کہ اس اعتماد کو اپنی داخلی یکجہتی اور بین الاقوامی حکمتِ عملی کے ساتھ نبھائے یہ عہد ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمیں اپنے گھر کے اندر بھی انصاف اتحاد اور شفافیت قائم رکھنی ہوگی تاکہ دنیا میں ہمارے وعدے اور زیادہ معتبر ہو سکیں
آج ہر پاکستانی کے سر فخر سے بلند ہے یہ خوشی صرف ہماری نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کی ہے یہ لمحہ اس دعا کے ساتھ مکمل ہوتا ہے کہ اللہ ہمیں استقامت دے حرمین شریفین کی حفاظت میں کامیاب کرے اور بیت المقدس کی آزادی کے دن بھی ہمیں اپنی آنکھوں سے دکھائے۔۔۔۔ آمین ثمہ آمین