ملتان (صفدربخاری سے) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں صوبائی وزیر محنت فیصل ایوب کی ہدایت پر محکمہ لیبر ملتان کے ڈائریکٹر رانا جمشید نے کم از کم اجرت کے نوٹیفکیشن پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کا آغاز کر دیا ہے نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب بھر میں مزدوروں اور محنت کشوں کی کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے مقرر کر دی گئی ہے۔محکمہ لیبر حکام کے مطابق آج سے تمام انسپکٹرز فیکٹریوں، صنعتی اداروں اور کاروباری مراکز کا وزٹ کریں گے اور یہ جائزہ لیں گے کہ نوٹیفکیشن پر مکمل عمل کیا جا رہا ہے یا نہیں۔ ذرائع کے مطابق جہاں کہیں خلاف ورزی پائی گئی وہاں سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔صوبائی وزیر محنت فیصل ایوب نے واضح کیا ہے کہ مزدوروں کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ حکومت کا مقصد محنت کش طبقے کو ریلیف دینا اور ان کی زندگی میں حقیقی آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اجرت کے اس فیصلے سے نہ صرف مزدوروں کے معیار زندگی میں بہتری آئے گی بلکہ پیداواری عمل میں بھی تیزی آئے گی۔اس سلسلے میں محکمہ لیبر نے چیمبر آف کامرس، انجمن تاجران اور دیگر تجارتی و صنعتی اداروں کو بھی خط لکھا ہے کہ وہ حکومت کے اس اقدام پر مکمل تعاون کریں اور اپنی فیکٹریوں اور کاروباری اداروں میں کم از کم اجرت کے اطلاق کو یقینی بنائیں۔محکمہ لیبر نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ مزدوروں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور استحصال کو روکنے کے لیے موثر اور فوری اقدامات اٹھائے جائیں گے اور وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے مطابق کسی بھی خلاف ورزی پر کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی.