یورپی کمیشن کا اسرائیل سے تجارتی مراعات معطل کرنے پر زور، بعض مصنوعات پر اضافی محصولات کی تجویز
برسلز: یورپی کمیشن نے اپنے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ جنگ اور اسرائیلی جارحیت کے باعث اسرائیل کے ساتھ تجارتی مراعات معطل کریں اور بعض اسرائیلی مصنوعات پر اضافی محصولات عائد کریں۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس نے رکن ممالک سے اپیل کی ہے کہ اسرائیلی آبادکاروں اور انتہاپسند وزراء ایتمار بن گویر اور بیتزالیل سموتریچ پر پابندیاں عائد کی جائیں۔ یورپی کمیشن کے مطابق اسرائیلی اقدامات، یورپی یونین اسرائیل ایسوسی ایشن معاہدے کے آرٹیکل 2 کی صریح خلاف ورزی ہیں، جس کے تحت انسانی حقوق اور جمہوری اصولوں کا احترام لازمی قرار دیا گیا ہے۔ کمیشن نے غزہ میں بگڑتی انسانی صورتحال، امداد کی ناکہ بندی، فوجی کارروائیوں میں شدت اور مغربی کنارے میں E1 بستی منصوبے کی منظوری کو بڑی وجوہات قرار دیا۔ یورپی کمیشن کی صدر اورسلا فان ڈیر لاین نے فوری جنگ بندی، انسانی امداد کے لیے رسائی اور یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ دوطرفہ تعاون روک دیا جائے گا۔ تاہم یورپی یونین کے 27 رکن ممالک میں اس تجویز پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ اسپین اور آئرلینڈ معاشی و اسلحہ پابندیوں کے حق میں ہیں جبکہ جرمنی اور ہنگری ان اقدامات کی مخالفت کر رہے ہیں۔ یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب یورپ بھر میں ہزاروں افراد اسرائیل کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو “نسل کشی” قرار دیا گیا ہے۔






































Visit Today : 219
Visit Yesterday : 511
This Month : 10613
This Year : 58449
Total Visit : 163437
Hits Today : 2041
Total Hits : 801467
Who's Online : 8






















