مودی سرکار کی ہندوتوا پالیسی اور سکھ برادری کی مذہبی آزادی پر قدغن
مودی سرکار کی ہندوتوا پالیسی اور سکھ برادری کی مذہبی آزادی پر قدغن
دنیا کے ہر مہذب معاشرے میں مذہبی آزادی اور عقائد کی ادائیگی کو بنیادی انسانی حق تسلیم کیا جاتا ہے، مگر افسوس کہ جنوبی ایشیا میں ایک ایسا ملک بھی ہے جس نے اپنے شہریوں کے لیے یہ حق چھیننے کو ریاستی پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے۔ یہ ملک بھارت ہے، جہاں موجودہ مودی سرکار نے ہندوتوا کی انتہاپسند سوچ کو اقتدار کی بنیاد بنا کر نہ صرف مسلمانوں اور مسیحیوں بلکہ نچلی ذات کے دلتوں کو بھی سماجی اور مذہبی استحصال کا نشانہ بنایا ہے۔ اب اسی تسلسل میں سکھ برادری بھی اس تنگ نظری اور جبر سے محفوظ نہیں رہی۔
مودی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد بھارت میں اقلیتوں کے لیے فضا مسلسل تنگ ہوتی چلی گئی ہے۔ کبھی مسلمانوں پر حملے، کبھی مسیحیوں کی عبادت گاہوں پر پابندیاں اور کبھی دلتوں کو سماجی زندگی سے الگ کرنے کے حربے، یہ سب ایک منصوبہ بند سوچ کا نتیجہ ہیں۔ یہی رویہ اب سکھ برادری کے مذہبی فرائض اور مقدس رسومات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتا جا رہا ہے۔ سکھ زائرین کو گردواروں میں عبادت کی پابندیوں کا سامنا ہے اور پاکستان میں واقع اپنے مقدس مقامات تک رسائی سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جو مودی سرکار کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے عیاں کرتی ہے۔
اس کے برعکس پاکستان نے ہمیشہ سکھ برادری کے لیے محبت، عزت اور احترام کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ کرتارپور راہداری اس کی سب سے روشن مثال ہے جو مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کی ایک منفرد علامت ہے۔ یہاں تک کہ حالیہ سیلاب کے دوران جب بھارت کی جانب سے چھوڑے گئے پانی نے خطرہ پیدا کیا، پاکستان نے صرف ایک دن کے اندر صفائی کے اقدامات مکمل کیے تاکہ سکھ زائرین بلا رکاوٹ اپنی مذہبی رسومات ادا کر سکیں۔ یہ فرق دونوں ملکوں کی پالیسیوں کو دنیا کے سامنے واضح کر دیتا ہے۔
اس پس منظر میں تازہ ترین خبر نے سکھ برادری کے دکھ کو اور بڑھا دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے اس سال گرو نانک دیو جی کے پرکاش گُرپورب کے موقع پر سکھ جتھوں کو پاکستان آنے کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ حکومت ہند نے پنجاب، ہریانہ، دہلی، یوپی، اتراکھنڈ اور جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹریوں کو خط لکھ کر ہدایت دی ہے کہ زیارت کے لیے آنے والی درخواستیں قبول نہ کی جائیں۔ بظاہر اس فیصلے کا جواز سکیورٹی خدشات اور دو ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی کو قرار دیا گیا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ اقدام بھی مودی سرکار کی اس پالیسی کا تسلسل ہے جس کے تحت اقلیتوں کے بنیادی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔ اس پابندی کے نتیجے میں ہزاروں سکھ زائرین اپنے مقدس مذہبی فریضے سے محروم ہو گئے ہیں اور برادری میں شدید مایوسی اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
یہ رویہ نہ صرف بھارت کے اندرونی استحکام کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ دنیا بھر میں اس کی ساکھ کو بھی مجروح کر رہا ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ عالمی انسانی حقوق کے ادارے اور مغربی طاقتیں، جو مذہبی آزادی کے علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں، اس کھلے امتیاز اور جبر پر خاموش ہیں۔ جب کہیں اور مذہبی آزادی پر قدغن لگتی ہے تو یہی طاقتیں شور مچاتی ہیں لیکن بھارت کے معاملے میں ان کی زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔ یہ دوہرا معیار دنیا کے اجتماعی ضمیر کے لیے سوالیہ نشان ہے۔
وقت آگیا ہے کہ دنیا بھارت میں اقلیتوں کی آواز بنے اور خصوصاً سکھ برادری کے حق میں کھڑی ہو۔ مودی سرکار کے ظلم و ستم اور ہندوتوا پر مبنی تنگ نظری کو بے نقاب کرنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ اگر عالمی برادری نے اس سلسلے میں بروقت قدم نہ اٹھایا تو یہ پالیسی نہ صرف بھارت کو اندر سے کھوکھلا کر دے گی بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ مذہبی آزادی اور انسانی وقار کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ دنیا اس جبر کے خلاف متحد ہو اور سکھ برادری سمیت تمام اقلیتوں کو ان کے جائز حقوق دلوانے میں اپنا کردار ادا کرے







































Visit Today : 260
Visit Yesterday : 511
This Month : 10654
This Year : 58490
Total Visit : 163478
Hits Today : 2405
Total Hits : 801831
Who's Online : 10






















