فیصلے اور وقت: قیلولہ کی حکمت اور قومی ضرورت

تجزیہ نگار: محمد جمیل شاہین راجپوت

انسانی تاریخ میں فیصلوں کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ قومیں ترقی کی منازل طے کرتی ہیں تو اس کے پیچھے بروقت اور درست فیصلے ہوتے ہیں، اور اگر زوال آتا ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ غلط فیصلے ہوتے ہیں۔ مگر کیا ہم دن کے ہر لمحے میں یکساں طور پر درست فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ حالیہ ریسرچ نے اس سوال کا چونکا دینے والا جواب دیا ہے: دنیا کے 99 فیصد غلط فیصلے دوپہر 2 بجے سے 4 بجے کے درمیان کیے جاتے ہیں۔

یہ ریسرچ جب باریک بینی سے کھنگالی گئی تو معلوم ہوا کہ زیادہ تر غلط فیصلے دوپہر 2 بج کر 50 منٹ سے 3 بجے کے دوران ہوتے ہیں۔ یہ انکشاف فیصلہ سازی کے تمام پرانے اصولوں کے لیے ایک جھٹکا تھا۔ ماہرین نے وجوہات تلاش کیں تو نتیجہ نکلا کہ انسانی دماغ مسلسل 7 گھنٹے فعال رہ سکتا ہے، اس کے بعد یہ تھکن اور بوجھ تلے دب جاتا ہے۔ اگر اسے ری چارج نہ کیا جائے تو دماغ ہمیں غلط فیصلوں پر مجبور کر دیتا ہے۔

دماغی صلاحیت کو ری چارج کرنے کا سب سے آسان طریقہ وہی ہے جسے اسلام نے صدیوں پہلے اپنایا تھا: قیلولہ۔ 30 منٹ کی یہ مختصر نیند دماغی بیٹریوں کو دوبارہ تازہ دم کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے اداروں اور ممالک نے اس ریسرچ کو اپنی پالیسیوں کا حصہ بنایا۔

امریکی صدر، ان کی کابینہ، حساس ادارے اور بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنے فیصلوں کی روٹین بدلتی رہیں، ماہرین نے نتائج نوٹ کیے اور یہ تھیوری درست ثابت ہوتی چلی گئی۔ سی آئی اے نے بھی اسے اپنے نظام میں شامل کر لیا۔ ورکنگ آوورز کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا:

پہلے تین گھنٹے—فیصلہ سازی کے لیے۔

دوسرے تین گھنٹے—فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے۔

آخری گھنٹے—فائل ورک اور کلوزنگ کے لیے۔

پاکستان کے سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل احمد شجاع پاشا نے ایک دلچسپ انکشاف کیا تھا کہ امریکی اکثر حساس ملاقاتوں کا وقت رات کے آخری پہر رکھتے تھے تاکہ پاکستانی تھکے ہوئے ہوں اور کمزور فیصلے کریں۔ لیکن پاکستانی وفود نے اس چال کو سمجھ کر ملاقات سے قبل نیند پوری کرنی شروع کی، یوں فیصلہ سازی میں برتری قائم رکھی۔

یہ حقیقت بھی دلچسپ ہے کہ فقیروں نے بھی اپنی عملی زندگی میں اس اصول کو سمجھ لیا تھا۔ ایک بزرگ فقیر نے بتایا کہ وہ صبح کے اوقات میں ہی مانگنے نکلتے ہیں، کیونکہ لوگ دوپہر سے پہلے زیادہ سخی ہوتے ہیں اور شام کو کنجوسی کا غلبہ آ جاتا ہے۔ یہ بات برسوں بعد سائنسی تحقیق سے ثابت ہو گئی۔

آج سے پچاس برس پہلے لوگ زیادہ خوش اور پر سکون تھے۔ شامیں خاندان کے ساتھ گزرتیں، کھیل کود اور میل ملاقات عام تھا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ دنیا بھر میں دوپہر کو قیلولہ کیا جاتا تھا۔ لیکن جب انسان نے مصنوعی موسم (ایئر کنڈیشننگ وغیرہ) ایجاد کر لیا تو قیلولہ ترک کر دیا، اور اس کے ساتھ ہی خوشی اور قوتِ فیصلہ بھی کم ہو گئی۔

ماہرین کے مطابق صبح کے اوقات تخلیقی اور فیصلہ سازی کے لیے سب سے موزوں ہیں۔ فجر کے وقت دماغ مکمل طور پر ری چارج ہوتا ہے اور فضا میں آکسیجن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو دماغ کے لیے اکسیر ہے۔ اسی لیے بڑے فیصلے ہمیشہ صبح کے اوقات میں کرنا بہتر ہے، جبکہ دوپہر 2 سے 3 بجے کے درمیان اہم فیصلے کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

پاکستان کے لیے تجاویز

1. سرکاری دفاتر میں قیلولہ کا آغاز
دوپہر 2 سے 3 بجے کے دوران سرکاری ملازمین کو مختصر آرام یا نیند کا موقع دیا جائے۔

2. فیصلہ سازی کے اوقات مقرر کرنا
کابینہ، قومی سلامتی کمیٹی اور دیگر حساس اجلاس صبح یا شام کے ابتدائی حصے میں رکھے جائیں۔

3. ورکنگ آوورز کی سائنسی تقسیم
دفاتر کے پہلے تین گھنٹے فیصلہ سازی، اگلے تین گھنٹے عمل درآمد اور آخری گھنٹے کلوزنگ کے لیے مختص کیے جائیں۔

4. تعلیمی اداروں میں آگاہی
طلبہ کو قیلولہ، دماغی صحت اور فیصلہ سازی کے اصول پڑھائے جائیں۔

5. عوامی شعور بیداری
میڈیا مہم کے ذریعے عوام کو بتایا جائے کہ بڑے کاروباری اور گھریلو فیصلے کس وقت کرنے چاہییں تاکہ نقصانات سے بچا جا سکے۔

نتیجہ

فیصلہ سازی زندگی کا سب سے بڑا ہنر ہے، لیکن وقت کا انتخاب اس ہنر کو کامیاب یا ناکام بنا دیتا ہے۔ اگر پاکستان اس تحقیق کو اپنی قومی پالیسیوں کا حصہ بنا لے، دفاتر کے نظام کو اس کے مطابق ڈھال دے اور قیلولہ کو دوبارہ زندہ کر دے تو نہ صرف غلط فیصلے کم ہوں گے بلکہ عوامی خوشی اور قومی ترقی کی رفتار بھی بڑھ جائے گی