ملتان (بیوروچیف) ایوانِ تجارت و صنعت ملتان کے صدر میاں بختاور تنویر شیخ نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے زرعی و ماحولیاتی ایمرجنسی نافذ کرنا بروقت اور درست فیصلہ ہے کیونکہ حالیہ سیلاب نے پورے ملک خصوصاً جنوبی پنجاب میں وسیع پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ کھڑی فصلیں، باغات اور دیہی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہیں جبکہ ہزاروں خاندان بے گھر ہو کر بنیادی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی معیشت پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے، مگر کپاس، گنا، چاول، مکئی اور سبزیوں کی فصلیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ کپاس کی تباہی سے ٹیکسٹائل انڈسٹری بحران کا شکار ہوگی اور ملکی ضرورت پوری کرنے کے لیے کاٹن امپورٹ بڑھانا پڑے گی، جس سے امپورٹ بل میں اضافہ ہوگا۔ اسی طرح چاول کی پیداوار کم ہونے سے رائس ایکسپورٹ گھٹے گی، زرمبادلہ کی آمد کم ہوگی اور کرنسی دباؤ کا شکار ہوگی۔ میاں بختاور تنویر شیخ نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اور مربوط اقدامات نہ کیے گئے تو ایکسپورٹ متاثر ہونے کے ساتھ بے روزگاری میں بھی اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی سنجیدہ پلاننگ خوش آئند ہے مگر کسانوں اور چھوٹے زمینداروں کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان ناگزیر ہے۔ متاثرہ کسانوں کو رعایتی نرخوں پر بیج اور زرعی ادویات فراہم کی جائیں اور تباہ شدہ آبپاشی نظام کی فوری بحالی کے لیے ہنگامی فنڈز مختص کیے جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیلاب سے متاثرہ انڈسٹریز کے لیے بھی ریلیف پیکج دیا جائے تاکہ روزگار کے مواقع برقرار رہ سکیں، بصورت دیگر مہنگائی کا ایک نیا طوفان کھڑا ہو سکتا ہے۔ میاں بختاور تنویر شیخ نے کہا کہ سیلاب نے ماحولیاتی توازن کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے، درخت اکھڑ گئے ہیں اور زمینی کٹاؤ بڑھ رہا ہے، جس سے غذائی و ماحولیاتی بحران جنم لے سکتا ہے۔ اس لیے زرعی و ماحولیاتی ایمرجنسی کو وقتی اقدامات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ مستقل بنیادوں پر جامع حکمتِ عملی تیار کی جائے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جنوبی پنجاب سمیت ملک بھر کی بزنس کمیونٹی حکومت کے ساتھ کھڑی ہے اور ملک کو معاشی و زرعی بحران سے نکالنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔