قائداعظم اور آج کا پاکستان

تحریر:ایس پیرزادہ
11 ستمبر پاکستانی تاریخ کا ایک انتہائی اہم دن ہے یہ وہ دن ہے جب برصغیر کے مسلمانوں کو آزادی کی منزل تک پہنچانے والے عظیم رہنما بابائے قوم محمد علی جناحؒ ہم سے رخصت ہوئے۔ ان کی شخصیت نہ صرف برصغیر کے مسلمانوں کے لیے روشنی کا مینار تھی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی مشعلِ راہ ہے
قائداعظم کا پیغام بالکل واضح اور دو ٹوک تھا انہوں نے ہمیشہ ایمان اتحاد اور قربانی کو کامیابی کی بنیاد قرار دیا اور بار بار اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو مضبوط بنانے کے لیے ہمیں محنت اور صرف محنت کو شعار بنانا ہوگا مگر آج جب ہم ان کی 77ویں برسی منا رہے ہیں تو ہمیں یہ سوال ضرور اپنے آپ سے کرنا چاہیے کہ کیا ہم واقعی قائد کے دیے گئے اصولوں پر عمل کر رہے ہیں؟پاکستان کو وجود میں آئے 78 برس ہو چکے ہیں لیکن افسوس کہ ہم آج بھی اپنی منزل کی تلاش میں ہیں۔ یہ وطن ابھی تک ایک ایسے سفر میں ہے جو مسلسل مشکلات اور آزمائشوں سے بھرا ہوا ہے کبھی بدترین مہنگائی کبھی بے روزگاری کبھی انصاف کی کمی کبھی معاشرتی ناانصافی اور کبھی قدرتی آفات ہمیں اپنی کمزوریوں کا احساس دلاتی ہیں آج بھی ملک کے کئی علاقے سیلاب کی لپیٹ میں ہیں لاکھوں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں معصوم بچے بھوک اور بیماریوں کا شکار ہیں، عورتیں اور بوڑھے بے بسی کی تصویر بنے کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں یہ منظر ہمیں 1947 کی ہجرت کی یاد دلاتے ہیں، جب لوگ اپنا سب کچھ چھوڑ کر ایک نئے وطن کی تلاش میں نکلے تھے اُس وقت ان کے حوصلے کی بنیاد قائداعظم کی قیادت تھی لیکن آج ہم انتشار، بداعتمادی اور قیادت کی کمی کا شکار ہیں قائداعظم نے کہا تھا کہ پاکستان ایک ایسی ریاست ہوگی جہاں انصاف، قانون کی حکمرانی، مساوات اور بھائی چارے کا بول بالا ہوگا لیکن آج حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ان اصولوں کو پسِ پشت ڈال دیا ہے ہمارے درمیان فرقہ واریت ذات پات لسانیت اور ذاتی مفادات نے جگہ بنا لی ہے ہم نے اتحاد کی جگہ تقسیم کو قربانی کی جگہ ذاتی مفاد کو اور محنت کی جگہ آسان راستوں کو اختیار کر لیا ہے یہی وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سےپاکستان آج بھی مسائل کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے تاہم یہ دن ہمیں صرف مایوس کرنے کے لیے نہیں بلکہ امید جگانے کے لیے بھی ہے قائداعظم نے یہ ملک کسی حادثے کے نتیجے میں نہیں بلکہ ایک واضح نظریے اور بے شمار قربانیوں کے بعد حاصل کیا تھا یہ ملک اُن شہیدوں اور قربانی دینے والوں کی امانت ہے جنہوں نے اپنے خون سے اس کے وجود کو ممکن بنایا اس لیے اگر آج ہم اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کا اعتراف کر کے سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیں تو کچھ بھی ناممکن نہیں آئیے آج کے دن ہم یہ عہد کریں کہ ہم پاکستان کو وہی ملک بنائیں گے جس کا خواب قائداعظم نے دیکھا تھا ہم اپنے سیلاب زدہ بھائیوں کے دکھ درد میں شریک ہوں گے ہم انصاف اور مساوات کی راہیں تلاش کریں گے ہم اتحاد کو اپنی طاقت اور محنت کو اپنی پہچان بنائیں گے یہی قائد کو اصل خراجِ عقیدت ہوگا اور یہی پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت بھی