ملتان (صفدربخاری سے) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر ملک محمد عثمان ڈوگر نے کہا ہے کہ پاکستان 2025 میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے شدید متاثر ہے، جس نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں اور معیشت کو متاثر کیا۔ محتاط رپورٹس کے مطابق تقریباً 58 لاکھ سے 1 کروڑ افراد متاثر ہوئے ، جن میں سے 22 لاکھ سے زیادہ افراد گھر سے بے گھر ہوچکے ہیں۔ پنجاب میں 33 ہزار سے زیادہ دیہات زیرِ آب ہیں، جبکہ 33 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے۔ فصلوں، مویشیوں، اور زرعی زمینوں کی تباہی نے دیہی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا۔ کسانوں کی اربوں روپے کی فصلیں (خاص طور پر چاول اور گندم) تباہ ہوئیں، اور کئی علاقوں میں زمینیں بنجر ہو گئیں۔گھر، سکول، سڑکیں، اور بجلی کا نظام تباہ ہو گیا۔ ذرائع ابلاغ کو جاری اپنے ایک خصوصی بیان میں انہوں نے کہا کہ سیلابی پانی کی وجہ سے موذی و جان لیوا بیماریاں (مثلاً اسہال اور ڈینگی) پھیل رہی ہیں۔ متاثرین کو صاف پانی، راشن، رہنے کے لئے خیمے ، بچوں کے لئے خوراک و دودھ ، جانوروں کے لئے چارہ اور طبی سہولیات کی شدید کمی کا سامنا ہے۔لاکھوں لوگ بے گھر ہو کر خیموں یا عارضی پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں۔ کئی دیہات اب بھی دیگر علاقوں سے کٹے ہوئے ہیں، جس سے امدادی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ مخیر حضرات، سماجی تنظیمیں ، تاجر برادری سیلاب متاثرین کی ہر ممکن مدد و تعاون کریں۔ اسوقت انہیں رہنے کے لئے خیموں، خوراک ، خشک راشن ، بچوں کے لئے دودھ، ادویات اور جانوروں کے لئے چارہ کی اشد ضرورت ہے۔ اگرچہ حکومت، پاک فوج، اور عالمی اداروں کی جانب سے فوری امداد اور بحالی کے اقدامات شروع کیے گئے ہیں، لیکن طویل مدتی بحالی کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل، منصوبہ بندی، اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ متاثرین کی فوری امداد اور ان کی معاشی و سماجی بحالی کے لیے تمام شعبوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔