ملتان :  عید میلاد النبی ﷺ کے 1500 صدسالہ بابرکت موقع پر بزم حسان بن ثابت اور بزم المعصوم پاکستان کے زیرِ اہتمام سالانہ عظیم الشان ختمِ نبوت میلاد ریلی نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ نکالی گئی۔ ریلی میں عشاقانِ رسول ﷺ کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور پورا علاقہ محبتِ رسول ﷺ کے نعروں سے گونج اُٹھا۔ میلادریلی کی قیادت ممتاز عالمِ دین علامہ قاری رب نواز سعیدی، جماعتِ اہلِ سنت پاکستان صوبہ پنجاب کے ترجمان پیرِطریقت صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی، پیر صوفی رانا اقبال معصومی الطافی، پیر مرزا افضال حسین معصومی الطافی، حاجی مرزا عبدالرشید، قاری حق نواز سعیدی، علامہ محمد اسماعیل سعیدی، قاری محمد حسنین، قاری دین محمد اور دیگر جید علمائے کرام و مشائخِ عظام نے کی۔ اس موقع پر مختلف سیاسی، سماجی و ملی رہنماؤں، معززینِ علاقہ اور شہر کی نمائندہ شخصیات نے بھی بھرپور انداز میں شرکت کی۔ میلاد ریلی کا آغاز معروف دینی درسگاہ جامعہ سعیدیہ حسان بن ثابت، محلہ پیر بخاری کالونی، مین سوئی گیس روڈ سے ہوا۔اورریلی اپنے مقررہ راستوں چوک اللہ وسایا، بی سی جی چوک اور ٹیکنالوجی کالج سے گزرتی ہوئی پُرامن اور روح پرور ماحول میں قاسم پور کالونی جامع مسجد غریب نواز میں اختتام پذیر ہوئی۔ شرکائے ریلی ہاتھوں میں سبز پرچم، نعتیہ بینرز اور روشنیوں سے مزین جھنڈیاں لیے ہوئے تھے اور گلی گلی ”آمد مصطفیٰ مرحبا” اور ”یا نبی سلام علیک” کے نعروں کی گونج سنائی دیتی رہی۔ پورا شہر عشقِ رسول ﷺ کے رنگ میں ڈوبا ہوا نظر آیا۔ریلی کے اختتام پر جامع مسجد غریب نواز میں عظیم الشان محفلِ میلاد مصطفیٰ ﷺ منعقد ہوئی۔ علما و مشائخ نے ولادتِ باسعادت کی عظمت اور سیرتِ طیبہ پر ایمان افروز خطابات کیے۔ مقررین نے کہا کہ:”12 ربیع الاول تاریخِ انسانیت کا سب سے بابرکت دن ہے جس دن رحمتِ کُل، مختارِ کُل، محبوبِ خدا ﷺ اس دنیا میں جلوہ افروز ہوئے۔ آپ ﷺ کی آمد سے ظلمتوں میں ڈوبا ہوا جہان نورِ ہدایت سے منور ہوا۔ آپ ﷺ نے اپنی پیدائش کے لمحے سے وصال تک امت کو یاد رکھا، امت کے لیے دعائیں کیں۔ اور امن و محبت، عدل و اخوت کی تعلیمات دیں۔ جشن۔ولادت کا دن تجدیدِ عہد کا دن ہے کہ ہم اپنی زندگیاں تعلیماتِ محمدی ﷺ کے مطابق گزارنے کا عزم کریں اور دنیا کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنائیں۔ رہنماؤں نے مزید کہا کہ میلاد ریلی دراصل معاشرتی اصلاح، محبتِ رسول ﷺ کے فروغ اور امت کے اتحاد کا عملی پیغام ہے۔ انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ اس عظیم اجتماع کو مثبت انداز میں اجاگر کرے تاکہ نبی اکرم ﷺ کی سیرت و تعلیمات زیادہ سے زیادہ عوام تک پہنچ سکیں اور میلاد النبی ﷺ کے بابرکت اجتماعات وحدت و محبت کے فروغ کا ذریعہ بنیں۔ محفل میلاد میں نعت خواں حضرات نے اپنی دلنشین آوازوں میں نعتیہ کلام پیش کر کے حاضرین کے دلوں کو منور کیا۔ اختتام پر پاکستان کی سلامتی، فلسطین و کشمیر کی آزادی، افواجِ پاکستان کی کامیابی، عالمِ اسلام میں اتحاد، امن و سکون، سیلاب و زلزلہ زدگان اور دکھی انسانیت کے لیے خصوصی اجتماعی دعائیں کی گئیں۔اور حسبِ روایت عاشقانِ رسول ﷺ میں بڑے پیمانے پر لنگرِ میلاد تقسیم کیا گیا جس سے بے شمار افراد نے فیض پایا۔