ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود وکلا کو ہسپتالوں میں مفت طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا ر ہیں: جواد ذوالکفل بھٹہ ایڈوکیٹ
ملتان (صفدربخاری سے) لائیرز پروٹیکشن کونسل کے چیئرمین جواد ذوالکفل بھٹہ ایڈوکیٹ ہائی کورٹ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود وکلا کو ہسپتالوں میں مفت طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں اور نہ ہی انہیں گریڈ 17 اور 18 کے سرکاری افسران جیسا پروٹوکول دیا جا رہا ہے جبکہ پنجاب بار کونسل نے بھی علیحدہ ایک نوٹیفکیشن مورخہ 30۔8۔2025 کو جاری کیا ہوا ہے ۔ہائی کورٹ کے احکامات پر عمل درامد کے لیے انہوں نے نشتر ہسپتال چلڈرن ہسپتال اور شہباز شریف ہسپتال کی انتظامیہ کو درخواست جمع کروا دی ہیں جبکہ کارڈیالوجی اور فاطمہ جنا ح ہسپتال کی انتظامیہ نے درخواستیں وصول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وکلا کو مفت طبی سہولیت فراہم نہیں کریں گی جس پر ان کے خلاف جلد قانونی کاروائی کی جائے گی اور نوٹیفکیشن پنجاب بار کونسل اور ہائی کورٹ بار کے احکامات پر عمل درامد یقینی بنایا جائے گا وکلا اور ان کے اہل خانہ کو بغیر میڈیکل ڈاکٹ محض پنجاب بار کونسل کا جاری کردہ کارڈ دکھا کر سرکاری اور نیم سرکاری ہسپتالوں میں مفت طبی سہولیات حاصل کر سکتے ہیں اور اس کے لیے انہیں لائن میں لگائے بغیر ہنگامی بنیادوں پر سہولیات فراہم کرنا ہسپتال انتظامیہ کی ذمہ داری ہے جس پر عمل درامد تک وکلا اپنی تحریک جاری رکھیں گے اور خلاف ورزی کرنے والوں کی قانونی چترول کریں گے





































Visit Today : 288
Visit Yesterday : 511
This Month : 10682
This Year : 58518
Total Visit : 163506
Hits Today : 2815
Total Hits : 802241
Who's Online : 7






















