چلتے چلتے 78 سال ہو گئے نہ جانے کب آئے گا پاکستان
تحریر: ایس پیرزادہ
پاکستان کی آزادی کو 78 برس بیت چکے ہیں یہ ملک خواب تھا ایک ایسی ریاست کا جہاں عوام سکون اور تحفظ کے ساتھ اپنی زندگیاں گزار سکیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر سال بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریاں ہمیں یہ یاد دلاتی ہیں کہ ہم نے اپنی منزل کی طرف بڑھنے کے بجائے بار بار ایک ہی دائرے میں گھومنا شروع کر دیا ہےسیلاب کوئی نیا واقعہ نہیں ہر سال برسات آتی ہے ہر سال پانی آتا ہے اور ہر سال بستیاں ڈوب جاتی ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ اعداد و شمار بدل جاتے ہیں کہیں لاکھوں بے گھر کہیں ہزاروں جاں بحق کہیں اربوں کی معیشت کا نقصان مگر کیا کبھی ہم نے یہ سوچا کہ یہ تباہی قدرت کی طرف سے نہیں بلکہ ہماری اپنی کوتاہیوں کا نتیجہ ہے؟
دیہاتوں کے منظر سب سے زیادہ دل ہلا دینے والے ہیں لوگ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے گھروں کو ڈوبتے دیکھتے ہیں چھتیں گر جاتی ہیں کچے مکان پانی میں بہہ جاتے ہیں مال مویشی جو دیہاتی زندگی کا سہارا ہوتے ہیں وہ بھی سیلاب کے پانی میں ڈوبتے اور بہتے نظر آتے ہیں بچے ماں کی گود میں سہمے ہوئے ہیں عورتیں بے یار و مددگار کھلے آسمان تلے کھڑی ہیں اور بزرگ اپنی عمر بھر کی محنت کو پانی میں برباد ہوتے دیکھ کر آنسو ضبط نہیں کر پاتے
مزید دکھ کی بات یہ ہے کہ ایسے مواقع پر جب متاثرین کو مدد اور سہارا چاہیے ہوتا ہے وہاں بعض حکمران اور بااثر لوگ فوٹو سیشن اور ویڈیوز بنانے میں لگ جاتے ہیں میں نے خود اپنی آنکھوں سے راوی کے کنارے یہ منظر دیکھا کہ کس طرح کیمرے فوکس کر رہے تھے اور اصل فوکس انسانی دکھ نہیں بلکہ تصویریں تھیں وہاں یہ کہنا پڑا کہ غریب عوام کی مدد پہلے کر لیں تصویریں بعد میں بھی بن سکتی ہیں یہ رویہ ہماری ترجیحات کی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہےہم نے 78 سال میں مؤثر واٹر مینجمنٹ سسٹم نہ بنایا ڈیم اور بیراجوں کی تعمیر کو ہمیشہ سیاست کی نذر کیا ندی نالوں اور دریاؤں کے قدرتی راستے قبضہ مافیا کے حوالے کر دیے شہری منصوبہ بندی کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا ایمرجنسی مینجمنٹ ادارے صرف فائلوں میں موجود ہیں زمین پر ان کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے۔ نتیجہ یہ کہ بارش جب رحمت بن کر آتی ہے تو ہم نے اپنی بدانتظامی سے اسے زحمت بنا دیا
یہ وقت حکومت اور اپوزیشن کے ایک دوسرے پر الزامات لگانے کا نہیں یہ وقت ہے ایک طویل المدتی پالیسی بنانے کا جس پر سب متفق ہوں قومی واٹر پالیسی کو از سرِ نو ترتیب دیا جائے ہر صوبے میں جدید فلڈ کنٹرول سسٹم لگایا جائے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر ریسکیو اور ری ہیبلیٹیشن یونٹ قائم ہوں جو صرف دکھاوے کے بجائے عملی طور پر کام کریں سب سے بڑھ کر، عوام کو شعور دیا جائے کہ وہ غیرقانونی تعمیرات اور دریاؤں کے قدرتی راستوں پر قبضہ نہ کریں دنیا کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جاپان چین اور ہالینڈ جیسے ممالک ہر سال سمندری طوفانوں اور سیلابوں کا سامنا کرتے ہیں مگر ان کی منصوبہ بندی اور ٹیکنالوجی انہیں تباہی سے بچا لیتی ہے اگر وہ کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن بھی اپنے سیلاب زدہ بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑی ہے ہم اس مشکل گھڑی میں ان کے دکھ درد بانٹنے کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں اور جہاں تک ممکن ہو متاثرین کی بحالی میں کردار ادا کر رہے ہیں یہ وقت سیاست یا نمائشی اقدامات کا نہیں بلکہ عملی طور پر عوام کے ساتھ کھڑا ہونے کا ہے
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے یعنی یہ ہم پر ہے کہ ہم اپنے سسٹم کو بہتر کریں اپنی غلطیوں سے سبق سیکھیں اور آنے والی نسلوں کو وہ پاکستان دیں جس کا خواب دیکھا گیا تھا
اگر آج ہم نے منصوبہ بندی نہ کی تو اگلے 78 سال بھی یہی سوال گونجے گا چلتے چلتے 78 سال ہو گئے نہ جانے کب آئے گا پاکستان؟
اے اللہ! پاکستان پر اپنا خاص کرم فرما سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچااس وطن کو امن خوشحالی اور عدل کا گہوارہ بنا ہمیں خدمتِ خلق اور اتحاد کی توفیق دے اور ہمارے وطن کو وہ پاکستان بنا جس کا خواب ہمارے بڑوں نے دیکھا تھا آمین





































Visit Today : 288
Visit Yesterday : 511
This Month : 10682
This Year : 58518
Total Visit : 163506
Hits Today : 2824
Total Hits : 802250
Who's Online : 7






















