ملتان : پولیس تھانہ نیو ملتان کے خلاف بزرگ خاتون غنچہ یاسمین نے خواتین کے ہمراہ پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے میں شریک خواتین نے وزیر اعلیٰ مریم نواز سے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے “انصاف دو، انصاف دو”، “ایس ایچ او نیو ملتان مردہ باد” اور “ایس آئی رمضان مردہ باد” کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ غنچہ یاسمین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے 27 لاکھ روپے میں گاڑی خریدی اور ایکسائز دفتر سے بائیو میٹرک بھی کروائی، مگر ایس ایچ او تھانہ نیو ملتان ذوالفقار نے رشوت لے کر ان کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس آئی رمضان نے مخالف فریق سے ساز باز کر کے سٹے آرڈر کے باوجود گاڑی، اس میں موجود دو لاکھ روپے اور کاغذات چھین لیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گاڑی چھینے جانے پر انہوں نے کئی بار 15 پر کال کی مگر پولیس موقع پر نہ پہنچی۔ بعد ازاں تھانہ چہلیک گئے تو ایس ایچ او نے موقع پر پہنچ کر سی سی ٹی وی فوٹوز نکلوائے اور بتایا کہ گاڑی تھانہ نیو ملتان کے قبضے میں ہے، تاہم بعد میں ان کے بیٹے سید حسنین حیدر شاہ پر جھوٹی ایف آئی آر درج کر دی گئی۔ بزرگ خاتون نے کہا کہ 15 پر کالیں میں نے کیں لیکن سم ان کے بیٹے کے نام پر ہونے کے باعث جھوٹا مقدمہ بیٹے پر بنا دیا گیا جو سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ مریم نواز سے اپیل کی کہ فوری طور پر ان اور ان کے بیٹے پر درج جھوٹی ایف آئی آرز خارج کی جائیں اور گاڑی، دو لاکھ روپے اور کاغذات واپس دلائے جائیں، ورنہ وہ ملتان پولیس کے ظلم کے خلاف خودسوزی پر مجبور ہوں گی۔ مظاہرے میں ثمینہ رانا، عائشہ بی بی، مریم مائی، تسلیم خان اور دیگر خواتین نے بھی شرکت کی۔