ملتان(صفدربخاری سے) پریم یونین کے صدر شیخ محمد انور کی کال پر ریلوے ملازمین کے مسائل کے حل کے لیے ملک گیر احتجاج کے سلسلے میں ریلوے اسٹیشن ملتان کینٹ سے ڈی ایس آفس تک احتجاجی مظاہرہ ہوا جس کی قیادت پریم یونین ملتان ڈویژن کے صدر رانا شریف، سینئر نائب صدر اویس حمید، ڈویژنل سیکرٹری ایوب مغل، آر گنائزر عابد علی بھٹی محمد احسن میڈیا سیکرٹری، جوائنٹ سیکرٹری راؤ ربنواز، نوید احمد، شاھد علی،محمد فراز، ملک ایاز، خالد محمود، ملک سلیم مسن، محمد رضوان راجو، رضوان چندا،محمد مشتاق خادم حسین علی رضا منیر احمد خضر عباس اسلم مشوری ملک نزر حسین اور دیگر نے کی مظاہرہ میں ریلوے ملازمین سے اظہار یکجہتی کے لیے جماعت اسلامی بھال پور کے رکن سید وقار الحق شاہ نے خصوصی شرکت کی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے رانا شریف نے کہا کہ ریلوے ٹریک، کوچز ناکارہ ہو چکی ہیں ملازمین کو 2019 سے ٹی اے، ریٹائر ملازمین اور بیواؤں کے واجبات کی عدم ادائیگی، ٹی ایل اے اور انویلڈ ملازمین کی مستقلی، آؤٹ سورسنگ کے نام پر ٹھیکے داروں کو نواز نے، خالی پوسٹوں کو ختم کرنے کی بجائے نئی بھرتی کرنے، آؤٹ سوس کے نام پر کیرج کلینرز کا معاشی قتل، پانچ فیصد کٹوتی کو ختم کرنے اور ماضی کٹوتیوں کا فرانزک آڈٹ اور دیگر مطالبات کے حل کے لیے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ نو تشکیل شدہ مشترکہ مفادات کونسل کے پہلے اجلاس میں ریلوے کیلیے فنڈز مقرر کیے جائیں ریلوے چاروں صوبوں کی زنجیر ہے اور ملکی وحدت کی نشانی ہے اس لیے اس وقت اس وحدت کی نشانی کو مکار دشمن نشانہ بنا رہے ہیں انہوں نے فیلڈ مارشل سے بھی ریلوے کے حوالے سے مثبت کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے انہوں نے وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وزارت ریلوے کی نااہل ٹیم ریلوے کی تباہی کی ذمہ دار ہے اس میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے ساری ملازمت میں کسی بھی ڈویژن میں آپریشنل ذمہ داری نہیں نبھاء ان کے ملازمت کا زیادہ عرصہ وزارت ریلوے میں ہی گذارا ہیانہوں نے وفاقی وزیر ریلوے سے کہا ریلوے ایک ملٹی ٹیکنیکل اور آپریشنل ادارہ ہے اس کے فیصلے قابل، ٹیکنیکل اور اپریشن پر عبور رکھنے والے افسران ہی بہتر کر سکتے ہیں انہوں نے ٹی اے اور ریٹائر ملازمین کے واجبات کی فوری طور پر ادائیگی کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر سے کردار ادا کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔سید وقار الحق شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام خصوصاً ریلوے مزدوروں کے مسائل کی اصل وجہ ایوانوں میں موجود لوگ ہیں۔ الیکشن کے دوران ان کرپٹ لوگوں کے سہانے نعروں سے متاثر ہو کر پاکستانی قوم اپنی نمائندگی کے لیے ان کو ایوانوں میں بھیجتی ہے۔ یہ لوگ ایوانوں میں جا کر لوگوں کے مسائل حل کرنے کی بجائے اپنے مفادات کے لیے کردار ادا کرتے ہیں۔ایوانوں میں موجود یہ لوگ حکومت اور اپوزیشن اپنی تنخواہیں بڑھاتے ہیں اور اپنی مراعات میں اضافہ اور سینٹ کے انتخابات کے لیے مشترکہ طور پر کردار ادا کرتے ہیں۔ عوام کے مسائل کے لیے یہ آپس میں اکٹھے نہیں ہوتے۔ انہوں نے ریلوے مزدوروں کو کہا ہے کہ جب تک ایوانوں میں نیک اور امانت دار لوگ ایوانوں میں آپ نہیں بھیجیں گے۔آپ کے مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھتے جائیں گے۔ انہوں نے مزدوروں سے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کے شانہ بشانہ منظم متحد ہو کر ہی لوگوں کے مسائل ختم ہو سکتے ہیں۔