پاکستان ہاکی کی نئی صبح

تحریر : اظہار عباسی

پاکستان ہاکی، جو کبھی دنیا بھر میں اپنی دھاک بٹھائے بیٹھی تھی، طویل عرصے سے بحرانوں، سازشوں اور انتظامی ناکامیوں کی بھول بھلیوں میں الجھی رہی۔ قومی کھیل کا نام ماند پڑ گیا، شائقین مایوسی کا شکار ہو گئے اور وہ دھاک جس سے کبھی یورپ سے لے کر ایشیا تک ہاکی کی دنیا لرزتی تھی، تاریخ کے صفحات میں دب کر رہ گئی۔ لیکن آج ایک نئی اُمید نے جنم لیا ہے، کیونکہ پاکستان ہاکی ٹیم کی ایف آئی ایچ پرولیگ میں شرکت کنفرم ہو چکی ہے۔ یہ اعلان محض ایک خبر نہیں، بلکہ ایک خواب کی تعبیر ہے۔
اس عظیم پیش رفت کا سہرا یقینی طور پر پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر میر طارق بگٹی کے سر ہے۔ انہوں نے نہ صرف ہاکی فیڈریشن کی باگ ڈور سنبھالی بلکہ ایک وژن اور عزم کے ساتھ قومی کھیل کو دوبارہ زندہ کرنے کی جستجو شروع کی۔ ایسے حالات میں جب فنڈز کی کمی، اندرونی اختلافات اور ماضی کی ناکامیوں نے پاکستان ہاکی کا مستقبل دھندلا دیا تھا، میر طارق بگٹی نے جرات مندانہ فیصلے کیے اور اس قوم کو ایک نئی منزل کی طرف گامزن کر دیا۔
طارق بگٹی کی قیادت اور وژن کا ہی کمال ہے کہ ناممکن کو ممکن بنایا گیا۔ ایف آئی ایچ پرو لیگ میں شرکت محض ایک ٹورنامنٹ نہیں بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو دنیا کی ٹاپ ٹیموں کے خلاف کھیلنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کے نوجوان کھلاڑی اب نہ صرف عالمی معیار کی ہاکی دیکھیں گے بلکہ اس کا حصہ بھی بنیں گے۔ یہ تجربہ مستقبل کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے۔
میر طارق بگٹی نے اپنے عملی اقدامات سے یہ ثابت کر دیا کہ اگر قیادت ایماندار، مخلص اور پرعزم ہو تو راستے خود بخود کھلتے ہیں۔ فیڈریشن کے محدود وسائل کے باوجود بین الاقوامی سطح پر پاکستان ہاکی کی آواز بلند کرنا ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان ہاکی کے گرد ہمیشہ سازشوں کا جال بُنا جاتا رہا ہے۔ کئی حلقے نہیں چاہتے تھے کہ قومی کھیل دوبارہ سر اٹھائے۔ مگر میر طارق بگٹی نے ان تمام رکاوٹوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ہاکی کے کاروان کو آگے بڑھایا۔ آج پرولیگ میں شرکت کی کنفرمیشن ان سازشی عناصر کے منہ پر طمانچہ ہے جو قومی کھیل کو دفن کرنا چاہتے تھے۔
یہ صرف آغاز ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کامیابی کو بنیاد بنا کر پاکستان ہاکی کو دوبارہ عروج کی راہ پر ڈالا جائے۔ شفاف نظام، جدید کوچنگ، نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور کھیل کے ڈھانچے میں اصلاحات وقت کی ضرورت ہیں۔ لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ میر طارق بگٹی جیسے قیادت کے علمبردار موجود ہیں جو اس سفر کو منطقی انجام تک پہنچا سکتے ہیں۔
پاکستان ہاکی ٹیم کی ایف آئی ایچ پرولیگ میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ امید کی شمع کبھی بجھتی نہیں۔ میر طارق بگٹی نے نہ صرف قومی کھیل کو نئی زندگی بخشی ہے بلکہ پوری قوم کو یہ پیغام دیا ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور جذبہ سچا ہو تو ناممکن کچھ بھی نہیں۔ آج ہر محبِ وطن پاکستانی دل سے میر طارق بگٹی کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے کہ انہوں نے پاکستان ہاکی کو مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر اُمید کی روشنی میں کھڑا کر دیا۔