ملتان :  ملک کے معروف اقلیتی رہنما ازمان دانی ایل نے کہا ہے کہ پاکستان میں بسنے والی مذہبی اقلیتیں ظلم و جبر محرومی اور استحصال کا شکار ہیں نہ تو ان کی عبادت گاہیں محفوظ ہیں اور نہ ہی ان کی عزتیں ہر طرح کا ظلم و زیادتی روا رکھنا عام بات بن چکی ہے اقلیتی نابالغ بچیوں کا تبدیلی مذہب اور مذہب کی بنیاد پر اس طرح کے کئی واقعات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے جبری تبدیلی مذہب کے خلاف موثر قانون سازی کی جائے اور اقلیتوں کو جداگانہ انتخاب کا حق دیا جائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں خطاب کے دوران کیا تقریب سے (پی ایم ڈی پی) کے چیئرمین عابد چاند نے کہا کہ وطن عزیز میں بسنے والی تمام مذہبی اقلیتیں اس خطے کی اصل وارث ہیں یہی وجہ ہے کہ تخلیق وطن ہو یا تعمیر وطن زندگی کے تمام شعبہ جات میں ان کی خدمات گراں قدر ہیں بانی پاکستان کا پہلی دستور ساتھ اسمبلی سے خطاب جس میں انہوں نے تمام شہریوں کو بلا رنگ و نسل و مذہب برابر قرار دیتے ہوئے کار مملکت میں اقلیتوں کو برابر حصہ داری کا واضح اعلان کیا لیکن اس کے برعکس آج ملک میں بسنے والی اقلیتوں کو دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا ہے جبکہ تقریب سے پاسٹر شہزاد،پاسٹر ثمینہ جانسن ،عمران وقاص ،شہباز غوری،عظیم مسیح،اسلم غوری،شہباز کھوکھر،پرویز کھوکھر،جوشوا مسیح،روف مسیح،اصف مسیح،نوئیل مسیح،درود مسیح،شمشاد حاکم،بابر اشرف ودیگر نے بھی خطاب کیا مقررین نے کہا کہ پاکستان کی تخلیق کا مقصد بھی یہی تھا کہ تمام پسے ہوئے مجبور و محکوم طبقات اپنی ثقافت اور عقائد کے مطابق زندگی بسر کر سکیں صرف قیام پاکستان کے لیے ہی نہیں بلکہ دفاع میں دھرتی کے بیٹوں نے اقلیت اور اکثریت کا فرق کیے بغیر اپنے جانوں کا نظرانہ پیش کیا اور آج بھی ملک و قوم کی سلامتی ترقی اور خوشحالی اور امن و امان کے قیام کے لیے ہمہ وقت اپنا تن من دھن قربان کرنے کو تیار ہیں۔