اینٹی بیگر مہم اور ہمارا قومی کردار

تحریر: ایس پیرزادہ

گزشتہ روزبی زیڈ یونیورسٹی کے سوشالوجی ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے کانفرنس ہال میں منعقدہ سیمینار میں مجھے بطور کالم نگار شرکت کا موقع ملا
میرے ساتھ اور بھی معزز شخصیات شامل تھیں جن میں
ڈاکٹر امتیاز وڑائچ صاحب شاہد انصاری صاحب اعظم حسین صاحب کامران اشفاق صاحب امیر نواز صاحب سید افتخاربخاری صاحب اقبال بلوچ صاحب ڈاکٹر سبغہ نور صاحبہ ڈاکٹر صائمہ افضل صاحبہ میڈم ام فروہ صاحبہ اور ڈاکٹر صہیب قدوس صاحب شامل تھے مجھے جہاں اپنی بات پہنچانے کا موقعہ ملا وھاں ان سب کی گداگری کے خلاف بھترین رائے سننے کا بھی موقعہ ملا یہ سیمینار واقعی ایک بہترین اور بامقصد نشست ثابت ہوا سوچا میں بھی اس پر لکھ کر اپنا حقِ آدا کروں
بھیک مانگنا ایک ایسی سماجی برائی ہے جو نہ صرف معاشرے کے حسن کو داغدار کرتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ جرائم اور بدعنوانی کی جڑ بھی بن جاتی ہے
اسلام نے بھی ہاتھ پھیلانے کو ناپسند کیا ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا
اوپر والا ہاتھ (دینے والا) نیچے والے ہاتھ (لینے والے) سے بہتر ہے
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں پہلے ہی بے روزگاری اور غربت کا سامنا ہے وہاں پیشہ ور گداگری نے معاشرتی ڈھانچے کو مزید کمزور کر دیا ہے آج گلی سڑک اشارہ یا مسجدکہیں بھی جائیں آپ کو بھیک مانگنے والوں کی بڑی تعداد نظر آئے گی یہ کوئی سادہ سا مسئلہ نہیں بلکہ ایک منظم مافیا ہے جو معصوم بچوں خواتین اور معذور افراد کو استعمال کر کے بھیک کو کاروبار بنا چکا ہےیہ حقیقت بھی افسوس ناک ہے کہ گداگری صرف غربت کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک عادت اور سوچ کی صورت اختیار کر چکی ہے ہمارے معاشرے میں ہٹے کٹے صحت مند اور کام کرنے کے قابل لوگ بھی آسان راستہ اختیار کرتے ہوئے بھیک مانگتے نظر آتے ہیں یہ رویہ نہ صرف محنت کی توہین ہے بلکہ معاشرتی اقدار کے لیے بھی خطرہ ہے جب کوئی تندرست اور مضبوط انسان بھیک مانگتا ہے تو وہ اصل مستحقین کا حق بھی چھین لیتا ہے اور معاشرے میں یہ پیغام دیتا ہے کہ محنت کی بجائے ہاتھ پھیلانا زیادہ آسان ہےریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے مافیا کو ختم کرے اور عوام کو ایک صحت مند محفوظ اور باوقار معاشرہ فراہم کرے اینٹی بیگر مہم کو صرف پکڑ دھکڑ تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ گداگروں کی کونسلنگ ان کے لیے روزگار کے مواقع فنی تربیت اور ری ہیبلیٹیشن سینٹرز قائم کیے جائیں اگر ریاست ایسے افراد کو باعزت روزگار فراہم کرے تو یہ خود بخود جرم اور گداگری سے دور ہو جائیں گےہم سب کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی عموماً لوگ جذبات میں آ کر ان گداگروں کو پیسے دے دیتے ہیں جس سے یہ دھندا مزید بڑھتا ہے ہمیں بھیک دینے کے بجائے ان فلاحی اداروں یتیم خانوں اور ٹرسٹس کی مدد کرنی چاہیے جو واقعی مستحقین تک امداد پہنچاتے ہیں اگر ہر شہری شعور کے ساتھ یہ فیصلہ کرے کہ بھیک نہیں دینی بلکہ مزدور کی محنت خریدنی ہے تو گداگری کے خاتمے کی بڑی راہ ہموار ہو سکتی ہےپاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن ہمیشہ محنت کش طبقے کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی آئی ہے یہ ادارہ سمجھتا ہے کہ گداگری کی اصل جڑ بے روزگاری اور محرومی ہے اگر ریاست ایسے افراد کو ہنر سکھائے اور انہیں مزدوری یا چھوٹے کاروبار کے مواقع فراہم کرے تو یہی گداگر معاشرے کے کارآمد شہری بن سکتے ہیں فیڈریشن اس بات پر زور دیتی ہے کہ مزدور کو اس کی محنت کا پورا صلہ ملے تاکہ کوئی شخص بھیک مانگنے پر مجبور نہ ہو مزید یہ کہ فیڈریشن حکومت کے ساتھ مل کر گداگروں کی ری ہبلیٹیشن کے منصوبوں میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ انہیں مزدور طبقے میں ضم کیا جا سکے اور وہ جرائم کی بجائے محنت کشی کو اپنائیں
گداگری کے خاتمے کے لیے ریاست عوام اور اداروں کو یکساں کردار ادا کرنا ہوگا ہمیں بھیک کو خیرات سمجھنے کے بجائے جرم سمجھنا چاہیے اور ان افراد کو ایسے راستے پر لانا ہوگا جہاں وہ عزت اور محنت سے زندگی گزار سکیں اینٹی بیگر مہم اس وقت کامیاب ہوگی جب حکومت گداگروں کو صرف سڑکوں سے ہٹائے گی نہیں بلکہ انہیں باوقار روزگار کے مواقع بھی فراہم کرے گی ہم سب کو ایک شہری ہونے کے ناطے اپنا اپنا کردار ادا کر کے اس ناسور کو جڑ سے ختم کرنا ہوگا