ملتان: نیوٹریشن انٹرنیشنل کے زیر اہتمام محکمہ صحت کوٹ ادو کے تعاون سے ایک آگاہی سیشن منعقد ہوا جس کی صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر حیدر علی ٹیپو نے کی۔ سیشن میں لیڈی ہیلتھ ورکرز اور سپروائزرز نے شرکت کی۔ سیشن میں ماہرین نے پاکستان میں غذائی کمی، خاص طور پر وٹامن اے اور ڈی کی قلت، اور کھلے و غیر صاف شدہ خوردنی تیل کے نقصانات پر روشنی ڈالی۔نیوٹریشن انٹرنیشنل کے زونل مینیجر امجد علی نے کہا کہ ملک کی نصف سے زائد خواتین اور بچے غذائی اجزاءکی کمی کا شکار ہیں جبکہ لاکھوں افراد ہڈیوں کے بھربھرے پن میں مبتلا ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلا اور غیر صاف شدہ تیل نہ صرف غذائیت کی کمی بڑھاتا ہے بلکہ مختلف مہلک بیماریوں کا باعث بھی بنتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ فوڈ فورٹیفیکیشن ایک کم لاگت اور مو ¿ثر حل ہے جس کے ذریعے غذائی کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے۔زونل مینیجر اعجاز شیخ نے کہا کہ نیوٹریشن انٹرنیشنل آٹے، گھی اور نمک کی فورٹیفیکیشن کے لیے انڈسٹری کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام فورٹیفائیڈ مصنوعات کی ڈیمانڈ کریں۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر حیدر علی ٹیپو اورتحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر کامران اکبر نے کہا کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ آگاہی فراہم کی جائے تاکہ وہ کھلے تیل کے بجائے مارکیٹ میں دستیاب فورٹیفائیڈ تیل اور گھی استعمال کریں۔ ڈاکٹر حیدر علی ٹیپو نے نیوٹریشن انٹرنیشنل کی کوششوں کو سراہتے ہوئے محکمہ صحت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔