کائنات کے راز – آغازِ کائنات میں بلیک ہولز کی پیدائش

تحریر: محمد جمیل شاہین راجپوت

1. تمہید: خاموش خلا میں چھپی ایک آواز

کائنات کا ابتدائی دور ایک ایسی خاموشی میں لپٹا ہوا تھا جس میں روشنی کی پہلی چمک اور زندگی کی پہلی آہٹ پوشیدہ تھی۔ لیکن اب، جب ہم جدید دور کی خلائی دوربینوں کے ذریعے ان گہرائیوں میں جھانکتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ اسی خاموش خلا میں بلیک ہولز جیسے پُراسرار اجسام پیدا ہو رہے تھے، جو روشنی تک کو نگل لیتے ہیں اور مادے کے قوانین کو چیلنج کرتے ہیں۔

2. سائنسی مظہر کی وضاحت

پھیلاؤ و رفتار:

کائنات کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ اس میں موجود بلیک ہولز بھی نہ صرف وجود میں آئے بلکہ ابتدائی اربوں سالوں میں بڑے پیمانے پر متحرک تھے۔ سائنسدانوں نے مشاہدہ کیا ہے کہ بلیک ہولز کی سرگرمیاں کائنات کے ابتدائی چار ارب سالوں کے اندر اپنے عروج پر پہنچ چکی تھیں۔

دوربین کی تفصیل (JWST):

جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ (JWST) خلا کی انتہائی دور دراز اور مدھم کہکشاؤں کا مشاہدہ کرنے کے قابل ہے۔ اس کی خاصیت یہ ہے کہ یہ انفرا ریڈ روشنی میں کام کرتی ہے، جو دھول اور گیس سے گزر کر ہمیں کہکشاؤں کے مرکز میں چھپے بلیک ہولز دکھاتی ہے۔ یہ دوربین سابقہ انفرا ریڈ دوربینوں سے آٹھ گنا زیادہ حساس ہے، اور اس کے سنہری آئینے بہت کمزور روشنی کو بھی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مادے کی پرتیں و تابکاری:

بلیک ہول اپنے اردگرد موجود مادے کو ایک گھومتی ہوئی ڈسک میں کھینچتے ہیں جسے “ایکریشن ڈسک” کہتے ہیں۔ یہ ڈسک انتہائی گرم ہوتی ہے اور اس سے روشنی اور تابکاری خارج ہوتی ہے، جو ہمیں بلیک ہول کی موجودگی کا سراغ دیتی ہے۔

فلٹرز اور مشاہدات:

JWST کے CEERS سروے نے 41 ایسی کہکشاؤں کی شناخت کی ہے جن کے مرکز میں بلیک ہولز متحرک طور پر مادہ ہضم کر رہے تھے۔ مختلف طول موج میں حاصل کردہ روشنی کے مشاہدے سے سائنسدانوں نے ان کی روشنی کی شدت ناپی، جس سے معلوم ہوا کہ یہ بلیک ہولز کتنی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ان اعداد و شمار کو استعمال کر کے انہوں نے ایک “لومینوسٹی فنکشن” تیار کیا جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ بلیک ہولز کی پوری آبادی نے کتنی ترقی کی۔

3. سائنسی نظریہ: زندگی و موت کا عمل

تحقیق سے یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ بلیک ہولز کی بڑھوتری اور کائنات میں ستاروں کی تشکیل ایک ہی دور میں عروج پر تھی، یعنی جب کائنات کی عمر تقریباً چار ارب سال تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان دونوں عملوں کے درمیان کوئی نہ کوئی گہرا تعلق موجود ہے۔ ممکن ہے بلیک ہولز کی کشش ستاروں کی پیدائش کو متاثر کرتی ہو یا یہ کہ دونوں کسی تیسرے کائناتی نظام سے جڑے ہوں۔ یہ ہم آہنگی کائنات کی پیچیدگی کا ثبوت ہے اور سائنسی تحقیق کے نئے در وا کرتی ہے۔

4. اسلامی نقطۂ نظر: قرآن کی روشنی میں

اسلامی تعلیمات میں فلکیاتی مظاہر پر غور کرنے کی بار بار تاکید کی گئی ہے۔ قرآن مجید میں سورۃ التکویر کی آیات میں فرمایا گیا:

> “فَلا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ ۝ الْجَوَارِ الْكُنَّسِ”
’’پس قسم ہے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی، جو چلتے ہیں اور چھپ جاتے ہیں‘‘
(سورۃ التکویر: 15-16)

مفسرین نے ان آیات کی تشریح میں ذکر کیا ہے کہ یہ آیات اُن خلائی اجسام کی طرف اشارہ کرتی ہیں جو نگاہ سے اوجھل ہو جاتی ہیں، اور جن کی حرکات پر نظر نہیں رکھی جا سکتی۔ جدید سائنسی تحقیق سے یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ بلیک ہولز ان ہی صفات کے حامل ہیں۔ یہ آیات دراصل اُن پوشیدہ حقائق کی طرف اشارہ کرتی ہیں جنہیں آج سائنس کے ذریعے دریافت کیا جا رہا ہے۔

5. روحانی نقطۂ نظر: فنا میں بقا کا راز

روحانیت میں بلیک ہولز کی تشبیہ اُس مرحلے سے دی جا سکتی ہے جہاں انسان اپنی خودی کو فنا کر کے اللہ کی رضا میں مکمل طور پر ڈھل جاتا ہے۔ بلیک ہول ہر شے کو اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے، لیکن یہ فنا ایک نئی تخلیق کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ سائنسی طور پر کہا جاتا ہے کہ بعض بلیک ہولز کے قریب نئے ستارے اور کہکشائیں جنم لیتی ہیں۔ یہ روحانی اصول کی ایک مظہر ہے کہ اصل بقا، فنا کے راستے سے ہی حاصل ہوتی ہے۔

6. نتیجہ: کائناتی کہانی کا ایک اہم موڑ

جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے ہمیں کائنات کے ان ابتدائی مناظر تک رسائی حاصل ہو گئی ہے جہاں بلیک ہولز خاموشی سے اپنی کہانی رقم کر رہے تھے۔ بلیک ہولز صرف کششِ ثقل کے مراکز نہیں، بلکہ وہ ایک پورے فلکیاتی نظام کا بنیادی عنصر ہیں۔ ان کی موجودگی اور سرگرمیاں ہمیں کائنات کے ماضی، حال اور ممکنہ مستقبل کا ادراک فراہم کرتی ہیں۔ یہ مظاہر نہ صرف سائنسی تجسس کو بڑھاتے ہیں بلکہ انسانی روح کو بھی اُس خالق کی طرف متوجہ کرتے ہیں جس نے یہ نظام قائم کیا۔

7. مکمل نثری خلاصہ

یہ تحقیق جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ذریعے کی گئی، جس نے CEERS سروے کے دوران 41 کہکشاؤں میں موجود فعال بلیک ہولز کا مشاہدہ کیا۔ ان مشاہدات کی مدد سے سائنسدانوں نے یہ معلوم کیا کہ کائنات کے ابتدائی دور میں بلیک ہولز بہت تیزی سے بڑھ رہے تھے۔ یہ دور وہی ہے جب ستاروں کی پیدائش بھی اپنے عروج پر تھی، جس سے ان دونوں عملوں کے درمیان تعلق کا اندازہ ہوتا ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے یہ مظاہر قرآنِ حکیم میں موجود آیات کی صداقت کو مزید روشن کرتے ہیں۔ روحانی طور پر بلیک ہول فنا اور بقا کے اسباق سکھاتے ہیں۔ یہ تمام پہلو مل کر ہمیں بلیک ہولز کو ایک کائناتی راز کے طور پر سمجھنے میں مدد دیتے ہیں، جو انسانی شعور اور ایمان کو بیک وقت جھنجھوڑتے ہیں۔

8. حوالہ جات

1. C-A Hsieh et al., Inferring Obscured Cosmic Black Hole Accretion History, arxiv.org/abs/2505.24308

2. BBC Sky at Night Magazine, August 2025

3. NASA – James Webb Space Telescope Reports

4. سورۃ التکویر، آیت 15-16

5. Sky at Night Magazine: What is a quasar, Infrared astronomy