“تحریکِ پاکستان میں گیلانی فیملی کا کردار”
تحریر: میر احمد کامران مگسی
گزشتہ شب بستی نو، نواب پور میں آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں ایک خوبصورت اکیڈمک سیشن منعقد ہوا، جس کا عنوان تھا “تحریکِ پاکستان میں گیلانی فیملی کا کردار”۔ یہ نشست نہ صرف معلوماتی تھی بلکہ تاریخ کے کئی روشن پہلو سامنے لائی۔
تقریب کے میزبان وسیم ریاض بھٹہ نے محنت اور دلجمعی سے پروگرام کو اس انداز میں ترتیب دیا کہ ہر مرحلہ خوشگوار اور پُر وقار رہا۔ مقالہ پیش کرنے والوں میں ڈاکٹر حمید رضا صدیقی، راقم الحروف میر احمد کامران مگسی، شعبہ سیاسیات بی زیڈ یو کے سربراہ ڈاکٹر نعیم محبوب اور مذہبی ٹچ دینے والے اللہ ڈتہ کاشف بوسن القادری شامل تھے۔
مہمانانِ خصوصی میں سید احمد مجتبیٰ گیلانی اور رکن صوبائی اسمبلی علی حیدر گیلانی شریک ہوئے، جبکہ اسٹیج کی نظامت پی ایچ ڈی کے طالب علم فیض الحسن چانڈیہ نے عمدگی سے انجام دی۔
میں نے اس موقع پر اپنا تحقیقی مقالہ “کاروانِ عزم و وفا ۔ تخلیق پاکستان سے حصول سرائیکی صوبہ تک” پیش کیا، جسے حاضرین اور مہمانان نے پسند کیا، خاص طور پر ڈاکٹر حمید رضا صدیقی نے اسے خوب سراہا۔
یہ محفل علم، تاریخ اور جذبے کا خوبصورت امتزاج تھی، جو شرکاء کے دلوں میں ایک خوشگوار یاد بن کر رہ گئی۔
. دوستوں کی خدمت میں مذکورہ رائٹ آپ پیش خدمت ہے.
.
“کاروانِ عزم و وفا ۔ تخلیق پاکستان سے حصول سرائیکی صوبہ تک”
 میر احمد کامران مگسی
ملتان کے گیلانی خاندان نے قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں وہ کردار ادا کیا جو تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے یاد رکھا جائے گا۔ یہ خاندان صدیوں سے شہرِ اولیاء کی روحانی، سماجی اور علمی قیادت کرتا آیا تھا، مگر جب آزادی کی تحریک اٹھی تو ان بزرگوں نے اپنے اثر و رسوخ، علم و بصیرت اور عوامی اعتماد کو قومی مقصد کے لیے وقف کر دیا۔ ان کی قربانیاں اور خدمات روحانی تقدس اور عملی جدوجہد کا حسین امتزاج ہیں۔مخدوم سید محمد رضا شاہ گیلانی نے نوجوانی میں ہی ترکوں کے حق میں آواز بلند کی اور اس کی پاداش میں تعلیم سے محرومی جھیلی، مگر ان کے حوصلے پست نہ ہوئے۔ 1934ء میں ڈپٹی کمشنر ای۔ پی۔ مون کو شکست دے کر ڈسٹرکٹ بورڈ ملتان کے چیئرمین بننا اور بعد ازاں پنجاب اسمبلی میں کامیابی حاصل کرنا ان کی سیاسی بصیرت کا ثبوت ہے۔ آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اور ملتان کے بااثر مسلم خاندانوں کو اس پلیٹ فارم سے جوڑنا ان کا وہ کارنامہ ہے جس نےتحریکِ پاکستان کو خطے میں نئی جان بخشی۔ 1946ء میں ایم ایل اے منتخب ہو کر انہوںنے اپنے خاندان کی سیاسی حیثیت مزید مستحکم کیاور مضبوط امیدوار مخدوم مرید حسین قریشی کو شکست دی ۔پاکستان کی آزادی کے بعد سید محمد رضا شاہ گیلانی کا انتقال ہو گیا۔ ان کے بیٹے سید حامد رضا شاہ گیلانی نے اپنے خاندان کا سیاسی ورثہ سنبھالا۔ سید حامدرضا شاہ گیلانی چار مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن اور ایک مرتبہ سینیٹر منتخب ہوئے۔ 1977ء میں وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ میں وزیر کے طور پر شامل ہوئے اور بعد میں پاکستان کے سفیر برائے کینیا بھی مقرر ہوئے۔
ان کے بھائی سید غلام مصطفیٰ شاہ گیلانی، جو سید یوسف رضا گیلانی کے دادا تھے، بھی تحریکِ پاکستان میں پیش پیش رہے۔ مسلم لیگ کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کرنا، خضر حیات ٹوانہ حکومت کے خلاف تحریک میں فعال کردار ادا کرنا اور والد کے انتقال کے بعد سجادہ نشین کی ذمہ داریاں نبھانا ان کی دوہری خدمت کا مظہر ہے۔ 1949ء میں ان کی وفات ہوئی، مگر ان کی نسل نے سیاست میں اپنا ورثہ جاری رکھا۔مخدوم سید شیر شاہ گیلانی، جنہوں نے برطانوی ہندوستان میں اعلیٰ انتظامی مناصب پر خدمات انجام دیں، ریٹائرمنٹ کے بعد مسلم لیگ کی قیادت کا حصہ بنے۔ 1945-46 کے انتخابات میں کامیابی، عوامی جلسوں میں ولولہ انگیز تقاریر اور گرفتاری و قید ان کی قربانی کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے آزادی کے بعد بھی قومی خدمت جاری رکھی اور 1960ء میں وفات پائی۔سید زین العابدین گیلانی نے تحریکِ خلافت سے اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا، انجمن فدایانِ اسلام قائم کی، تعلیمی ادارے بنائے اور نوجوانوں کو بیدار کیا۔ 1939ء میں مسلم لیگ میں شمولیت کے بعد وہ 1945ء میں ملتان کے صدر منتخب ہوئے اور انتخابات و تحریکوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آزادی کی رات سرکاری عمارتوں پر پاکستانی پرچم لہرانا ان کے عشقِ وطن کی یادگار علامت ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد مہاجرین کی بحالی میں بھی انہوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں۔سید غلام نبی شاہ گیلانی، جن کے والد سید راجن بخش گیلانی میونسپل کمیٹی ملتان کے پہلے سول چیئرمین تھے، کم عمری میں سیاست میں داخل ہوئے۔ مسلم لیگ ملتان کے صدر اور جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے انہوں نے لاہور کے تاریخی اجلاس میں شرکت کی اور قراردادِ پاکستان کی حمایت میں سرگرم رہے۔ 1947ء میں سول نافرمانی تحریک میں قافلوں کی قیادت کی، اور آزادی کے بعد بھی قومی و سماجی خدمت جاری رکھی۔ محترمہ فاطمہ جناح کی صدارتی مہم میں بھی وہ سرگرم رہے۔سید غلام نبی شاہ گیلانی، وہ مردِ میدان جنہوں نے جوانی ہی سے سیاست کا جھنڈا اٹھایا۔ میونسپل کمیٹی سے آغاز کیا، مسلم لیگ کا علم تھاما، 23 مارچ 1940 کو لاہور کے تاریخی اجلاس میں پہنچے، اور پھر 1945-46 کی انتخابی مہم میں اپنی توانائیاں نچھاور کیں۔ آزادی کے بعد بھی یہ شمع فروزاں رہی، حتیٰ کہ محترمہ فاطمہ جناح کے قافلے میں بھی کھڑے رہے۔
مخدوم سید محمد عبداللہ شاہ گیلانی، جنہوں نے دو قومی نظریے کو سینے میں سجایا، مسلم لیگ کے پرچم بردار بنے، اور 1945-46 کے تاریخی انتخابات میں فتح کا پرچم لہرایا۔ پنجاب کے سیاسی میدان میں خضر حیات ٹوانہ کے خلاف علمِ حق بلند کیا، اور آزادی کے بعد بھی عوامی خدمت جاری رکھی۔ان کے صاحبزادے سید مخدوم یزدانی گیلانی آج کل ملتان کے سماجی منظر نامے پر بہت نمایاں ہیں۔
مخدوم سید شوکت حسین گیلانی کا ذکر آتا ہے تو دل فخر سے بھر جاتا ہے۔ مزار موسیٰ پاک کے سجادہ نشین، مسلم لیگ کے نائب صدر، مگر عاجزی کا پیکر کہ عہدہ چھوڑ دیا۔ 1945-46 کی شاندار کامیابی میں ان کی محنت شامل تھی۔ 1965 کی جنگ میں پچاس ہزار روپے عطیہ کر کے حب الوطنی کا ثبوت دیا۔ عید میلاد النبی ﷺ کے جلوسوں کی قیادت کر کے دین اور دنیا دونوں میں خدمت کی راہیں روشن کیں۔ان کے صاحبزادے سید تنویر الحسن گیلانی، پوتے سید اسد مرتضیٰ گیلانی اور ان کے خاندان کے متعدد افراد پارلیمنٹ کے رکن رہ چکے ہیں۔ مخدوم سید ولایت حسین گیلانی نے تعلیم کو ہتھیار بنایا۔ اسلامیہ ڈگری کالج جیسے ادارے ان کی یادگار ہیں۔ 1937 میں ایم ایل اے بنے، سول نافرمانی میں قید ہوئے، مگر حق کے راستے سے نہ ہٹے۔ 1951 میں ایم ایل اے بن کر طلبہ کے لیے اصلاحات لائیں، اور ڈسٹرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے ملتان کی ترقی کا نیا باب لکھا۔
اور پھر آتا ہے وہ نام جو پاکستان کی تعمیر میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا، مخدوم سید علمدار حسین گیلانی۔ نشتر میڈیکل کالج، گیلانی لاء کالج اور دیگر کئی ادارے ان کی بصیرت اور عزم کے گواہ ہیں۔ تحریک پاکستان کے ہر پڑاؤ پر موجود رہے، مہاجرین کی بحالی میں پیش پیش رہے، وزیر صحت کی حیثیت سے ہسپتالوں کا جال بچھایا، اور اپنی زندگی کے آخری دم تک عوامی خدمت کا چراغ روشن رکھا۔اسی قافلے میں سید رحمت حسین گیلانی بھی ہیں، جو بھائی کی وفات کے بعد ایم ایل اے بنے، ڈسٹرکٹ بورڈ کے چیئرمین رہے، اور مغربی پاکستان اسمبلی میں قانون سازی کا حصہ بنے۔یہ خاندان آج بھی سیاست اور خدمت میں فعال ہے، اور سب سے نمایاں مثال سید یوسف رضا گیلانی ہیں جو 2008 سے 2012 تک وزیر اعظم پاکستان رہے۔
اے اہلِ وطن! یہ صرف تاریخ نہیں، یہ ہماری روح کی روشنی ہے۔ یہ داستان بتاتی ہے کہ ایمان، قربانی، اور عزمِ صمیم ہو تو مٹی سے پاکستان جیسا شاہکار جنم لیتا ہے۔ گیلانی خاندان کا ہر فرد اس قافلۂ حریت کا چراغ ہے، جو آنے والی نسلوں کو یاد دلاتا رہے گا کہ پاکستان محض ایک سرزمین نہیں، یہ ایک خواب کی تعبیر ہے جس کی حفاظت ہم سب کا فرض ہے۔یہ دنیا ہمیشہ اُن لوگوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے اپنی ذات سے بڑھ کر ایک مقصد کے لیے زندگی وقف کی۔ ایسے کردار، جو زمانے کی دھول میں گم نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے اوراق پر سنہری حروف سے لکھے جاتے ہیں۔ ان کے دل میں ایک آگ ہوتی ہے، ایک تڑپ، ایک ایسی بے قراری جو انہیں عام انسانوں سے ممتاز کرتی ہے۔ وہ راہ کے کانٹوں سے خوفزدہ نہیں ہوتے، مشکلات کے طوفان ان کے عزم کو توڑ نہیں پاتے۔ہم جب اپنے ماضی کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں ایک قافلہ نظر آتا ہے۔ یہ محض افراد نہیں تھے، یہ چراغ تھے جو اپنے وقت کے اندھیروں میں روشنی پھیلا رہے تھے۔ ان کے قدم اٹکتے نہیں تھے، ان کی آنکھوں میں خواب تھے اور دل میں ایک عہد۔ یہ وہ لوگ تھے جو جانتے تھے کہ ایک انسان اگر چاہے تو تنہا بھی زمانے کا رخ موڑ سکتا ہے۔یہ قافلہ اُن رہنماؤں اور محسنوں کا ہے جنہوں نے اپنی فکر، عمل اور قربانی سے آنے والی نسلوں کے لیے راستے روشن کیے۔ کسی نے علم کا چراغ تھاما، کسی نے عدل کی شمع جلائی، کسی نے میدانِ کارزار میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ دی۔ ہر ایک کا مقصد ایک ہی تھا . انسانیت کی بھلائی، حق کی سربلندی، اور ایک ایسے معاشرے کی تعمیر جہاں ظلم کا سایہ نہ ہو۔یہ وہی لوگ ہیں جن کے ذکر سے حوصلے بیدار ہوتے ہیں، دلوں میں آگ سلگتی ہے اور ذہنوں میں روشنی اُترتی ہے۔ ان میں سے ہر ایک کی داستان ہمیں یہی پیغام دیتی ہے کہ اصل کامیابی اپنی ذات کے لیے جینے میں نہیں، بلکہ دوسروں کے لیے جینے میں ہے۔اور آج، جب ہم ان کا ذکر کرتے ہیں تو یہ صرف تاریخ دہرانا نہیں، بلکہ ایک عہد کی تجدید ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ ہم ان کی وراثت کے امین ہیں اور ہم نے یہ چراغ آنے والی نسلوں تک پہنچانا ہے۔ یہ وعدہ ہے کہ ہم بھی اپنے حصے کا سفر طے کریں گے، چاہے راستہ کتنا ہی دشوار کیوں نہ ہو۔

ملتان سے اس خانوادے کی محبت اور عقیدت یک طرفہ نہ تھی، بلکہ ملتان کے عوام نے ہمیشہ بڑھ چڑھ کر اس جذبے کا جواب دیا۔ انہوں نے اس خاندان کو اقتدار کے سنگھاسن تک پہنچانے میں اپنا تن، من اور دھن نچھاور کیا اور اس کے بطلِ جلیل، سید یوسف رضا گیلانی، کو پاکستان کے اعلیٰ ترین مناصب تک رسائی دلانے میں اہم کردار ادا کیا اور ان کے صاحبزادگان سید عبدالقادر گیلانی، سید علی موسی گیلانی، سید علی حیدر گیلانی اور سید عل قاسم گیلانی کو پاکستان کے ایوان ہائے بالا تک پہنچایا۔ یہی وہ رشتۂ محبت اور اعتماد ہے جس کے باعث یہ خاندان آج بھی ملتان کے سیاسی افق پر ایک روشن آفتاب کی مانند جگمگا رہا ہے۔ ملتان کے عوام کی نگاہیں آج بھی اس خاندان پر لگی ہوئی ہیں، اور وہ یہ امید رکھتے ہیں کہ جس طرح تحریکِ پاکستان کے دوران گیلانی خاندان نے فعال اور کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے ملک کی تشکیل میں اپنا حصہ ڈالا، اسی طرح آج بھی وہ سرائیکی وسیب کے غصب شدہ حقوق کی بازیابی کے لیے بھرپور سیاسی جدوجہد کریں گے اور اس خطے کے عوام کے دیرینہ مطالبے،سرائیکی صوبے کے قیام کو عملی جامہ پہنائیں گے۔