“تحریکِ پاکستان میں گیلانی فیملی کا کردار”
گزشتہ شب بستی نو، نواب پور میں آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں ایک خوبصورت اکیڈمک
سیشن منعقد ہوا، جس کا عنوان تھا “تحریکِ پاکستان میں گیلانی فیملی کا کردار”۔ یہ نشست نہ صرف معلوماتی تھی بلکہ تاریخ کے کئی روشن پہلو سامنے لائی۔
ہوئے، جبکہ اسٹیج کی نظامت پی ایچ ڈی کے طالب علم فیض الحسن چانڈیہ نے عمدگی سے انجام دی۔
ملتان کے گیلانی خاندان نے قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں وہ کردار ادا کیا جو تاریخ میں ہمیش
ہ سنہری حروف سے یاد رکھا جائے گا۔ یہ خاندان صدیوں سے شہرِ اولیاء کی روحانی، سماجی اور علمی قیادت کرتا آیا تھا، مگر جب آزادی کی تحریک اٹھی تو ان بزرگوں نے اپنے اثر و رسوخ، علم و بصیرت اور عوامی اعتماد کو قومی مقصد کے لیے وقف کر دیا۔ ان کی قربانیاں اور خدمات روحانی تقدس اور عملی جدوجہد کا حسین امتزاج ہیں۔مخدوم سید محمد رضا شاہ گیلانی نے نوجوانی میں ہی ترکوں کے حق میں آواز بلند کی اور اس کی پاداش میں تعلیم سے محرومی جھیلی، مگر ان کے حوصلے پست نہ ہوئے۔ 1934ء میں ڈپٹی کمشنر ای۔ پی۔ مون کو شکست دے کر ڈسٹرکٹ بورڈ ملتان کے چیئرمین بننا اور بعد ازاں پنجاب اسمبلی میں کامیابی حاصل کرنا ان کی سیاسی بصیرت کا ثبوت ہے۔ آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اور ملتان کے بااثر مسلم خاندانوں کو اس پلیٹ فارم سے جوڑنا ان کا وہ کارنامہ ہے جس نے
تحریکِ پاکستان کو خطے میں نئی جان بخشی۔ 1946ء میں ایم ایل اے منتخب ہو کر انہوں
نے اپنے خاندان کی سیاسی حیثیت مزید مستحکم کیاور مضبوط امیدوار مخدوم مرید حسین قریشی کو شکست دی ۔پاکستان کی آزادی کے بعد سید محمد رضا شاہ گیلانی کا انتقال ہو گیا۔ ان کے بیٹے سید حامد رضا شاہ گیلانی نے اپنے خاندان کا سیاسی ورثہ سنبھالا۔ سید حامدرضا شاہ گیلانی چار مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن اور ایک مرتبہ سینیٹر منتخب ہوئے۔ 1977ء میں وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ میں وزیر کے طور پر شامل ہوئے اور بعد میں پاکستان کے سفیر برائے کینیا بھی مقرر ہوئے۔
د مسلم لیگ کی قیادت کا حصہ بنے۔ 1945-46 کے انتخابات میں کامیابی، عوامی جلسوں میں ولولہ انگیز تقاریر اور گرفتاری و قید ان کی قربانی کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے آزادی کے بعد بھی قومی خدمت جاری رکھی اور 1960ء میں وفات پائی۔سید زین العابدین گیلانی نے تحریکِ خلافت سے اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا، انجمن فدایانِ اسلام قائم کی، تعلیمی ادارے بنائے اور نوجوانوں کو بیدار کیا۔ 1939ء میں مسلم لیگ میں شمولیت کے بعد وہ 1945ء میں ملتان کے صدر منتخب ہوئے اور انتخابات و تحریکوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آزادی کی رات سرکاری عمارتوں پر پاکستانی پرچم لہرانا ان کے عشقِ وطن کی یادگار علامت ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد مہاجرین کی بحالی میں بھی انہوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں۔سید غلام نبی شاہ گیلانی، جن کے والد سید راجن بخش گیلانی میونسپل کمیٹی ملتان کے پہلے سول چیئرمین تھے، کم عمری میں سیاست میں داخل ہوئے۔ مسلم لیگ ملتان کے صدر اور جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے انہوں نے لاہور کے تاریخی اجلاس میں شرکت کی اور قراردادِ پاکستان کی حمایت میں سرگرم رہے۔ 1947ء میں سول نافرمانی تحریک میں قافلوں کی قیادت کی، اور آزادی کے بعد بھی قومی و سماجی خدمت جاری رکھی۔ محترمہ فاطمہ جناح کی صدارتی مہم میں بھی وہ سرگرم رہے۔سید غلام نبی شاہ گیلانی، وہ مردِ میدان جنہوں نے جوانی ہی سے سیاست کا جھنڈا اٹھایا۔ میونسپل کمیٹی سے آغاز کیا، مسلم لیگ کا علم تھاما، 23 مارچ 1940 کو لاہور کے تاریخی اجلاس میں پہنچے، اور پھر 1945-46 کی انتخابی مہم میں اپنی توانائیاں نچھاور کیں۔ آزادی کے بعد بھی یہ شمع فروزاں رہی، حتیٰ کہ محترمہ فاطمہ جناح کے قافلے میں بھی کھڑے رہے۔ملتان سے اس خانوادے کی محبت اور عقیدت یک طرفہ نہ تھی، بلکہ ملتان کے عوام نے ہمیشہ بڑھ چڑھ کر اس جذبے کا جواب دیا۔ انہوں نے اس خاندان کو اقتدار کے سنگھاسن تک پہنچانے میں اپنا تن، من اور دھن نچھاور کیا اور اس کے بطلِ جلیل، سید یوسف رضا گیلانی، کو پاکستان کے اعلیٰ ترین مناصب تک رسائی دلانے میں اہم کردار ادا کیا اور ان کے صاحبزادگان سید عبدالقادر گیلانی، سید علی موسی گیلانی، سید علی حیدر گیلانی اور سید عل قاسم گیلانی کو پاکستان کے ایوان ہائے بالا تک پہنچایا۔ یہی وہ رشتۂ محبت اور اعتماد ہے جس کے باعث یہ خاندان آج بھی ملتان کے سیاسی افق پر ایک روشن آفتاب کی مانند جگمگا رہا ہے۔ ملتان کے عوام کی نگاہیں آج بھی اس خاندان پر لگی ہوئی ہیں، اور وہ یہ امید رکھتے ہیں کہ جس طرح تحریکِ پاکستان کے دوران گیلانی خاندان نے فعال اور کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے ملک کی تشکیل میں اپنا حصہ ڈالا، اسی طرح آج بھی وہ سرائیکی وسیب کے غصب شدہ حقوق کی بازیابی کے لیے بھرپور سیاسی جدوجہد کریں گے اور اس خطے کے عوام کے دیرینہ مطالبے،سرائیکی صوبے کے قیام کو عملی جامہ پہنائیں گے۔






































Visit Today : 407
Visit Yesterday : 511
This Month : 10801
This Year : 58637
Total Visit : 163625
Hits Today : 4273
Total Hits : 803699
Who's Online : 4






















