پاکستانی قوم اپنے ملی جزبے اور بلند حوصلوں کے ساتھ آ ج کے دن یوم آزادی انتہائی جوش و خروش سے منا رہی ہے ۔ آ ج کا دن ایک تاریخ ساز اہمیت کا حامل ہے جب 14 اگست 1947 کو پاکستان دنیا کے نقشے پہ ایک ملک کے طور پہ ابھرا۔قوم کی امنگوں کا محور یہ ارض وطن نعمت بن کر اس قوم کو ملا۔ اس ملک کو سنبھالنا اور اس کا تحفظ کرنا ہر پاکستانی کا فرض ہے۔دہشت گردوں اور شرپسندوں کو ان کے انجام تک پہنچانا اور قیام امن کو یقینی بنا کر دشمن قوتوں کے تمام منصوبوں کو خاک میں ملانا اس قوم اور اس کے سیکورٹی اداروں کا مشن عظیم ہے۔قوم قومی یکجہتی کے ساتھ پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدات کا تحفظ کرے۔ یوم پاکستان ہمیں اس تحریک کی یاد دلاتا ہے جو تحریک ہمارے اسلاف نے وطن عزیز کے قیام کے لئیے اپنے بلند حوصلوں اور عزائم کے ساتھ چلائ اور کامیابی حاصل کی۔یہ دن تجدید عہد وفا کا دن ہے کہ ہم اپنی تاریخ اور اپنے اسلاف کی قربانیوں کو یاد رکھ کر اپنے ملک کی تعمیر وترقی اور خوشحالی میں بھرپور حصہ لے کر وطن عزیز کو اور قوم کو اقوام عالم میں اور عالمی دنیا میں ایک مضبوط پہچان فراہم کریں۔۔ پاکستان میں جمہوری ٫مذہبی اور سیاسی قوتوں سمیت قومی سیاست کرنے والوں کو اپنے ملک و قوم کی خاطر مفادات کی سیاست سے کنارہ کش ہو کر ملکی مفادات کو ترجیح دینی ہو گی۔بیرونی یلغار ٫ہرزہ سرائ٫پروپیگنڈے٫بیانیے اور دہشت گردی کی جنگ کے خلاف قوم کے متحد ہونے کا وقت ہے۔باطل نظریات سے چھٹکارا پانے کا وقت ہے اور ملکی احساس ٫فکر اور نظرئیے کو ترجیحی بنیاد پہ اپنا نے کی ضرورت ہے ۔جسٹس کے نظام میں موجود سقم کو ختم کر کے سفارشی کلچر اور کرپشن کے نظام کا خاتمہ کرنا ہو گا۔اشرافیہ کے اللے تللے اور چونچلے ملک کے ساتھ مذاق کے مترادف ہیں ۔پاکستان کے لئیے قربانیاں اور شہادتیں پیش کرنے والے ہی قومی ہیروز ہیں ۔ہمیں تجدید عہد وفا کرنی ہو گی اور اس نظرئیے کی پاسبانی کیلئے آ گے آ نا ہو گا جو بانی پاکستان محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ کا نظریہ تھا۔ قومی عصبیت سے نکل کر اور سیاسی اختلافات کو بھلا کر ملکی تعمیر و ترقی میں حصہ لینا ہو گا۔انتشار اور فساد کی سیاست سے گریز اور قوم کو اپنے اتحاد سے اپنی شناخت بنانی ہو گی جو ماند پڑ چکی ہے۔ معیشت کی زبوں حالی سیاسی عدم استحکام کے باعث مزید ابتری کا شکار ہے لہذا ملک میں تمام سیاسی جماعتوں کا قومی سلامتی و دیگر معاملات پہ اختلافات کو پس پشت ڈال کر قومی مفاد میں متحد ہونا وقت کی ضرورت ہے۔
پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں پلوں کے اوپر سے بہت پانی بہہ چکا اب ہمیں مستقبل کی فکر کرنی ہو گی۔ملکی بقاء اور سلامتی داؤ پہ لگی ہوئ ہے ۔پاکستان کے اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔سوشل میڈیا ٹرولرز کے ذریعے الیکٹرانک میڈیا ٫پرنٹ میڈیا پہ جھوٹے بیانیوں اور پروپیگنڈہ کو بڑھا چڑھا کر پھیلایا جا رہا ہے جس سے ملک میں بدگمانیاں پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ہر وقوع پذیر واقعے کو مسلح افواج سے جوڑ کر منفی پروپیگنڈا کیا جاتا ہے ۔حالانکہ پوری قوم کے سامنے ہے کہ ہمارے سیکورٹی اداروں نے ملکی بقاء اور سلامتی کے لئیے بے تحاشا قربانیاں دی ہیں ان کی شہادتیں ان کے کردار اور ملک سے مخلصی کی عکاس ہیں ۔یہ قوم قومی ہیروز کی شہادتوں کی تکریم کرے اور ملکی سپاہ کے شانہ بشانہ رہ کر ملک دشمنوں کی سازشوں اور ان کے مکروہ عزائم کو ناکام بنائیں۔ بلوچستان میں انتشار اور فساد کی فضاء قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔پرامن احتجاج اور جائز مطالبات کے لئیے نکلنا ہر ایک کا حق ہے لیکن شرپسندی اور ملک دشمن قوتوں کے ہاتھوں میں کھیلنا٫ان کے ایجنڈوں اور سازشوں کی تکمیل پاکستان سے وفاداری نہیں ۔ میگا پروجیکٹس اور گوادر میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کو نقصان پہچانے کی کوشش کرنا اور بین الاقوامی سرمایہ کاری میں رکاوٹیں ڈالنا یہ سب سیاسی جہدوجہد نہیں بلکہ انتشار اور فساد کی راہ ہے۔ملک اس وقت سیاسی انتشار اور فساد کی سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ بحیثیت قوم متحد ہونے کی ضرورت ہے ۔اور اگست کے اس مہینے میں وعدے کی تجدید کا وقت ہے جب قیام پاکستان کے وقت ہمارے اسلاف نے اپنی قربانیوں اور سب کچھ لٹانے کے بعد اس ملک کے قیام کی منزل کو پایا۔ آ ج پاکستان کو ایک متحد قوم کی ضرورت ہے جو قومی یکجہتی کے جزبات سے سرشار ہو۔پاکستان اور آ نیوالی نسلوں کا روشن مستقبل آ پکے آج کے کردار پر منحصر ہے آ ج یہ قوم جو بوئے گی اس کی فصل سے آ نیوالی نسلیں مستفید ہونگی۔نظریہ پاکستان اور اساس پاکستان سے مضبوط تعلق ہی ہماری ناؤ کو پار کروا سکتا ہے۔دشمن بیانیوں اور پروپیگنڈوں سے بچنے کی ضرورت ہے ۔پوری قوم کا ایک ہی نظرئیے پہ متفق ہونا اور قومی یکجہتی کے ساتھ ملکی مفادات کا تحفظ ملکی سلامتی ٫بقاء اور تحفظ کا ضامن ہو گا۔خطے کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں تقسیم در تقسیم ہونے سے بچنا ہو گا ۔منظم قوم منظم ملک کی ضمانت ہے۔فکری جہدوجہد اور ملکی ترقی کا نظریہ ہی اس قوم کا کل اثاثہ ہے یہی تجدید عہد وفا ہے جو ہمیں حب الوطنی کے جزبات سے سرشار کرتا ہے۔ ملک میں بدامنی ٫دہشت گردی اور فساد کے خلاف اپنی سپاہ کی قربانیوں اور شہادتوں کو منزل بنا کر آ گے بڑھنا ہو گا۔اگر قومی حیثیت سے ہم کمزور پڑ گئے اور دشمنوں کی سازشوں کا شکار ہو گئے تو پھر خدانخواستہ کسی سانحے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
قومی منافرت اور علاقائیت یا مفادات کی سیاست سے گریز اور ملکی مفادات کی ترجیح سے ہی ہم ایک کامیاب قوم اور ملک کے طور پہ خود کو منوا سکتے ہیں۔