نوجوان ملک کا مستقبل ہوتے ہیں، اور ان کی ذمہ داریاں معاشرے کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے کلیدی کردار ادا کرتی ہیں: روہی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن ملتان
ملتان: پنجاب پروبیشن اینڈ پیرول سروس ، محکمہ داخلہ ملتان کے ڈویڑنل ڈپٹی ڈائریکٹر محمد رفیق نے روہی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن ملتان کے زیر اہتمام یوم آزادی کے سلسلے میں ” 78 سالہ پاکستان اور آج کا نوجوان ” کے عنوان سے منعقدہ خصوصی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی معاشرہ ایک متنوع اور روایتی اقدار سے بھرپور معاشرہ ہے جہاں نوجوان نسل ملک کی ترقی اور استحکام کا اہم ستون ہے۔ نوجوان ملک کا مستقبل ہوتے ہیں، اور ان کی ذمہ داریاں معاشرے کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ اس موقع پر الگ الگ اظہار خیال کرتے ہوئے سینئیر صحافی شوکت اشفاق ، ڈاکٹر فاروق لنگاہ (صدر )، محمد ساجد (پروبیشن آفیسر)، جواد امین قریشی (سیکرٹری جنرل)، مسز مہوش امتیاز (پروبیشن آفیسر)، طارق فاروق (کالم نگار)، آفاق خان لنگاہ ( دینی سکالر)اور شاہین اشفاق (پیرول آفیسر) نے کہا کہ نوجوانوں کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیم حاصل کریں اور اپنے ہنر کو پروان چڑھائیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں، جہاں وسائل محدود ہیں، تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوان ہی معاشرے کی معاشی اور سماجی ترقی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ وہ نہ صرف اپنی ذاتی ترقی کے لیے کوشش کرتے ہیں بلکہ اپنے خاندان اور معاشرے کی بہتری کے لیے بھی کام کرتے ہیں۔پاکستانی معاشرہ مشترکہ خاندانی نظام پر مبنی ہے، جہاں نوجوان اپنے والدین، بہن بھائیوں، اور خاندان کے دیگر افراد کی کفالت اور دیکھ بھال کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔ وہ خاندان کے روایتی اقدار اور ثقافتی اصولوں کو برقرار رکھتے ہیں اور معاشرے میں اخلاقی اقدار کو فروغ دیتے ہیں۔نوجوان پاکستانی معاشرے کی ترقی کے لیے کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ سیاست، معیشت، سائنس و ٹیکنالوجی، اور دیگر شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ پاکستانی نوجوان آئی ٹی کے شعبے میں عالمی سطح پر اپنی شناخت بنا رہے ہیں، جبکہ کھیلوں، فنون لطیفہ، اور سماجی خدمات میں بھی نمایاں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔پاکستانی معاشرے میں نوجوانوں کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئےسینئِر صحافی رانا عرفان السلام ، سماجی رہنما فرحان الحق حقانی ، مسز آصفہ قریشی ، قاری محمد اقبال ، ڈاکٹر اعجاز رسول اور مس ربعیہ بنت فاروق نے کہا کہ بے روزگاری اور محدود وسائل کی وجہ سے بہت سے نوجوان اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے سے قاصر ہیں۔ معاشی دباو¿ ان کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں رکاوٹ بنتا ہے۔دیہی علاقوں میں تعلیمی اداروں کی کمی اور معیاری تعلیم تک رسائی کی کمی نوجوانوں کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ روایتی معاشرتی اصولوں اور توقعات کی وجہ سے کئی نوجوان اپنی صلاحیتوں کو مکمل طور پر استعمال نہیں کر پاتے۔ خاص طور پر خواتین کو جنسی امتیاز اور سماجی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔سیاسی عدم استحکام اور بدعنوانی کی وجہ سے نوجوانوں کے لیے منصفانہ مواقع کی کمی ہے، جو ان کے عزائم کو متاثر کرتی ہے۔مقررنین نے کہا کہ سیمینار میں لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہوِئی۔





































Visit Today : 435
Visit Yesterday : 511
This Month : 10829
This Year : 58665
Total Visit : 163653
Hits Today : 4903
Total Hits : 804329
Who's Online : 4






















