شاہ محمود قریشی 57 مقدمات میں گھِرے، 10 میں بری مگر رہا نہ ہو سکے:بیرسٹر ملک تیمور الطاف مہے و دیگر وکلاء تحریک انصاف
ملتان: وکیل مخدوم شاہ محمود قریشی وتحریک انصاف بیرسٹر ملک تیمور الطاف مہے نے دیگر تحریک انصاف کے وکلاء کے ہمراہ شاہ محمود قریشی پر بنائے جانے والے مقدمات کی تفصیل بتا تے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگ اس بات میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ شاہ محمود قریشی کو کب رہا کیا جائے گا اس لیے میں کچھ پس منظر اور حقائق بیان کرتا ہوں شاہ محمود قریشی کو پہلی بار 10 مئی 2023 کو اسلام آباد میں ایم پی او نظر بندی کے حکم کے تحت گرفتار کیا گیا تھاہم نے اس حکم کو چیلنج کیا اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے تفصیلی فیصلے کے ذریعے اسے کالعدم قرار دے دیااس کے بعد ڈی سی راولپنڈی کے جاری کردہ ایم پی او نظر بندی کے حکم کے تحت شاہ محمود قریشی کو گرفتار کیا گیاہم نے اس حکم کو چیلنج کیا اور اسے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے جسٹس چوہدری عبدالعزیز کے ایک اور تفصیلی فیصلے کے ذریعے منسوخ کر دیا۔شاہ محمودقریشی کو پھر 19 اگست 2023 کو سائفر کیس کے تحت گرفتار کیا گیااڈیالہ جیل اور پھر اسلام آباد ہائی کورٹ میں 100سے زائدسماعتوں کے بعد جون 2024 میں انہیں اس مقدمے سے بری کر دیا گیاتاہم انہیں پھر بھی رہا نہیں کیا گیا بلکہ 9 مئی کو لاہور سے متعلق بعض مقدمات میں ایک سال سے زیادہ کی تاخیر کے بعد ان کا نام شامل کیا گیااورانہیں اڈیالہ جیل کے باہر سے دوبارہ گرفتار کرکے وہیں قید رکھا گیا۔پھر جب کوٹ لکھپت میں جیل ٹرائل شروع ہوئے تو انہیں لاہور جیل منتقل کر دیا گیا اور کوٹ لکھپت جیل میں پہلے سے قید دیگر رہنماؤں کے ساتھ ان پر فرد جرم عائد کر دی گئی حالانکہ شاہ محمود قریشی ایف آئی آر میں نامزد بھی نہیں تھے اور ابتدائی طور پر بیانات میں ان کا نام نہیں تھا۔اس پچھلے ایک سال کے دوران عدالتوں نے ان کی گرفتاری کے بعد کی کچھ ضمانتوں کا فیصلہ کیا اور انہیں ضمانتیں بھی دیں مگرپھر بھی شاہ محمود قریشی کو پھر بھی رہا نہیں کیا گیا اب شاہ محمود قریشی کو اے ٹی سی 3 اور لاہور کی اے ٹی سی 1 عدالتوں نے ان میں سے تین مقدمات میں بری کر دیا ہے۔ 9 مئی کے اسی طرح کے مقدمات کے حوالے سے ان کی ان ہی عدالتوں میں اب بھی چھ ضمانتیں زیر التوا ہیں ان کے وکیل کے طور پر میں دو سال پہلے ان کی رہائی کی خواہش کرتا تاہم وہ ابھی تک قید ہیں اور جب تک کہ ان کی زیر التواء ضمانتوں کی سماعت نہ ہو اور فیصلہ نہ کیا جائے کچھ بھی تبدیل ہونے کا امکان نہیں ہے۔شاہ محمود قریشی کو پنجاب اور اسلام آباد میں کل 57 مقدمات کا سامنا ہے ایک ایک کرکے ہم نے اب تک دس مقدمات میں ان کی بریت اور بیشتر دیگر مقدمات میں ضمانتیں حاصل کر لی ہیں یہ آسان نہیں تھا اور یہ جدوجہد یقینی طور پر ختم نہیں ہوئی۔





































Visit Today : 426
Visit Yesterday : 511
This Month : 10820
This Year : 58656
Total Visit : 163644
Hits Today : 4762
Total Hits : 804188
Who's Online : 4






















