ملتان (صفدربخاری) مرکزی میلاد کمیٹی کے زیراہتمام جشن آزادی کے سلسلہ میں منعقد ہونیوالاپاکستان کامنفردنواں سالانہ آزادی مارچ میلاد چوک شاہ رکن عالم کالونی سے شروع ہوکر گلشن مارکیٹ،نون چوک سے ہوتا ہوا گلستان مارکیٹ پر اختتام پذیرہوا۔اس سال آزادی مارچ کو جشن بنیان مرصوص کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔آزادی مارچ کی قیادت صاحبزادہ معصوم حامد نقشبندی، مرکزی میلاد کمیٹی کے صدر رکن الدین حامدی،جمعیت علمائے پاکستا ن نورانی کے صوبائی صدر ایوب مغل نورانی،میاں جاویدقریشی،تحریک صوبہ ملتان کے مرکزی چیئرمین راؤ عبدالقیوم شاہین،متحدہ میلاد کونسل کے صدرمرزاارشدالقادری،خواجہ شفیق اللہ صدیقی البدری،پاکستان عوامی تحریک کے رہنما راؤ محمد عارف رضوی ودیگر قائدین نے کی۔جبکہ علماء کرام،مشائخ عظام کے علاوہ حاجی جاویداختر انصاری،میجر محمد اقبال چغتائی،علامہ عبدالرزاق حامدی،چوہدری حامد ارائیں،سید بابر شاہ،حاجی ندیم قریشی،انجمن تاجران گلشن مارکیٹ کے صدر راؤ لیاقت علی، یونس قریشی،ڈاکٹر ارشد بلوچ،قاضی بشیرگولڑوی،علامہ اللہ داد سعیدی،شیخ عبدالرحیم،قاری توفیق حامدی،پیر افضل فرید چشتی،احمد قریشی،علامہ امیر اظہر سعیدی،سید ناظم حسین شاہ،پیر مظہر صدیق چشتی،الحاج محمد علی انصاری،راؤ عبداللہ قیوم راؤ،پیرغلام جیلانی نقشبندی،پیر ساجد نواز قادری،فیصل وارثی،پیر ذیشان سیفی،سلمان الہی قریشی،راجہ ظفر کیانی،ساجد قادری،محبوب علی قادری،شفقت طلال تاشفین،ڈاکٹر آصف مراد سیالوی،محمد صدیق چھینا انصاری،راؤ لاریب اسلام،یعقوب ڈمرا،محمداکرم پنڈا و دیگر بھی شامل تھے۔آزادی مارچ میں حب الوطنی کے جذبے سے سرشار معروف سیاسی و سماجی شخصیات اور ہر طبقہ ہائے فکر سے متعلقہ لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔آزادی مارچ میں قائدین کے علاوہ معصوم بچوں اور دیگر سینکڑوں شرکاء نے جناح کیپ پہن کر شرکت کی اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی نشانی ”جناح کیپ“کو پہننے کی روایت کو زندہ کرنے کا عزم کیا اور بانی پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا۔آزادی مارچ میں خصوصی ٹرک پر ملی ترانے عوام کا جوش گرماتے رہے جبکہ شرکاء مارچ کا جذبہ دیدنی تھا۔آزادی مارچ میں تمام روٹ کو مختلف بینرز اور پاکستانی پرچموں سے سجایا گیا تھا،تاجروں کی جانب سے آزادی مارچ کے روٹ پر ٹھنڈے پانی اور دودھ کی سبیلیں لگائی گئیں جبکہ ماڈل چیئرمین راؤ مظہر الاسلام کی جانب سے ٹھنڈے پانی کی موبائل سبیل پورے راستے آزادی مارچ کے شرکاء کے ساتھ رہی۔تاجروں کی جانب سے آزادی مارچ کے شرکاء پر پورے راستے گل پاشی کی گئی،اور مختلف جگہوں پر بھرپوراستقبال کیا گیا۔آزادی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ معصوم حامد نقشبندی اورجمعیت علمائے پاکستان کے صوبائی صدرایوب مغل نورانی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کی صورت میں ہمیں ایک عظیم نعمت سے نوازا ہے۔پاکستان ہماری پہچان اورکشمیر ہماری جان ہے۔آج پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں پر حملے کئے جارہے ہیں مگر ہماری بہادر افواج نے آپریشن بنیان مرصوص کے زریعے قوم کے سرفخر سے بلند کردیئے۔ مرکزی میلاد کمیٹی کے صدر رکن الدین حامدی اورتحریک صوبہ ملتان کے چیئرمین راؤ عبدالقیوم شاہین نے کہا کہ جس طرح دفاعِ وطن ایمان کا تقاضہ ہے اور پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت میلادیوں کی قومی ذمہ داری ہے،اسی طرح کشمیر و فلسطین کی آزادی کی جدوجہد بھی ہمارے ایمان کا تقاضہ ہے اور،ہم یہ ذمہ داری پوری طرح نبھائیں گے۔متحدہ میلاد کونسل کے صدرمرزاارشدالقادری،چیئرمین خواجہ شفیق اللہ البدری، اورپاکستان عوامی تحریک کے مرکزی رہنما راؤ محمد عارف رضوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بنیادوں میں میلاد منانے والوں کا لہو شامل ہے،مادرِ وطن سے محبت کا جذبہ اگلی نسلوں کو منتقل کرنا ہم پر فرض ہے۔ پاکستان لاکھوں جانوں کی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا ہے۔قیام پاکستان کیلئے قربانیاں دینے والے ہی اصلی قومی ہیروہیں۔بنیان مرصوص کے زریعے افواج پاکستان نے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے۔آج جشن آزادی کے موقع پر پور ی قوم اپنے قومی ہیروز کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ ہم پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے خلاف ہونیوالی ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور نظریاتی سرحدوں پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔آزادی مارچ میں مختلف تنظیمات نے جلوسوں کے ہمراہ شرکت کی۔آزادی مارچ کے اختتام پر استحکام پاکستان اورشہدائے آزادی کے درجات کی بلندی کیلئے خصوصی دعا کی گئی۔