کلام اقبال میں عکس قرآن ایک قیمتی تحفہ

تحریر: ایس پیزادہ

ریڈیو پاکستان ملتان کے سیمینار ہال میں کچھ عرصہ قبل ایک تقریب میں شرکت کا موقع ملا اگرچہ اس تقریب کا موضوع کچھ اور تھا لیکن اسی دوران میری ملاقات معروف محقق اور انجینئر عبدالحکیم ملک صاحب سے ہوئی ملاقات نہایت خوشگوار رہی اور اسی موقع پر انہوں نے محبت اور شفقت کے ساتھ اپنی کتاب کلام اقبال میں عکس قرآن بطور تحفہ عنایت کی یہ کتاب میرے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے میں نے اسے شوق سے پڑھا اور محسوس کیا کہ عبدالحکیم صاحب نے علامہ اقبال کی شاعری کو قرآن پاک کی آیات اور سورتوں کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا ہے انہوں نے واضح کیا کہ اقبال کی فکر کی بنیاد قرآن کی تعلیمات ہیں
کتاب کے ایک صفحے پر علامہ اقبال کا مشہور شعر بھی موجود ہے
کی محمد ﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
اس شعر کو انہوں نے قرآنِ پاک کی سورۃ آلِ عمران (سورۃ نمبر 3) آیت نمبر 31 کے ساتھ جوڑا ہے جس میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ۚ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ
ترجمہ
کہہ دیجیے اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو،اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے

کتاب کے مطالعے سے یہ احساس ہوتا ہے کہ ہماری زندگی کی پریشانیاں اور مشکلات قرآن سے دوری کی وجہ سے ہیں یہ کتاب نہ صرف اقبال کے پیغام کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے بلکہ ہمیں قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کرنے کی دعوت بھی دیتی ہے
میں ادب سے وابستہ ہوں اور یہ کتاب میرے لیے ایک منفرد تجربہ تھی عبدالحکیم صاحب کی محنت اور اخلاص لائق تحسین ہے میں تمام پڑھنے والوں سے گزارش کرتی ہوں کہ اس کتاب کو ضرور پڑھیں اس پر غور کریں اس کو سمجھیں اور قرآن پاک کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اسی میں ہماری دنیا و آخرت کی نجات ہے اس کتاب سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ علامہ اقبال کو قرآن پاک سے کس قدر گہرا لگاؤ تھا اور انجینیئر عبدالحکیم صاحب نے ان کی شاعری کو قرآن کے نور سے کس خوبصورتی سے منسلک کیا میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ عبدالحکیم صاحب کو صحت اور لمبی عمر عطا فرمائے اور وہ اسی جذبے کے ساتھ علم و ادب کے چراغ جلاتے رہیں میری اور پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن کی جانب سے آپ کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں