لاہور : ماڈل ٹاؤن پولیس نے 5 اگست کو نکالی جانے والی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ریلی پر فوری ایکشن لیتے ہوئے ریلی میں شریک تمام 28 کارکنان کو حراست میں لے لیا۔ ریلی کی قیادت گجرات سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی رہنما ندیم بٹ کر رہے تھے، جو پولیس کے مطابق متعدد مقدمات میں نامزد اور مطلوب ملزم بھی ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق ریلی کو ماڈل ٹاؤن کے قریب روکا گیا، جہاں سے کارکنان کو حراست میں لینے کے بعد ان کی گاڑیاں، بشمول ڈالے، ہائی ایس وین اور کاریں بھی قبضے میں لے لی گئیں۔ گرفتار کارکنان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔ پولیس کی جانب سے جاری کردہ فہرست کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد میں قمر رضا، سیف، مناف حنیف، احتشام، محمد حسین صفدر (گجرات)، حسن افضال، ہارون رشید (سرائے عالمگیر)، محمد افضل، محمد اعظم، داؤد، جاوید اقبال، ندیم اختر، یاسر خان، قادر، غلام عباس، غلام مصطفی، محمد علی، طارق اقبال، بلاول، نعمان احمد، وسیم عباس، وسیم ارشد اور دیگر شامل ہیں۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ ریلی غیر قانونی اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے، جس کی وجہ سے فوری کارروائی ناگزیر تھی۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ گرفتار شدہ افراد میں بعض ایسے عناصر بھی شامل ہیں جو سوشل میڈیا اور عوامی جلسوں کے ذریعے ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز بیانات پھیلا رہے تھے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کی مقامی قیادت نے کارکنان کی گرفتاری کو غیر قانونی اور سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، جسے طاقت کے ذریعے دبانا جمہوری روایات کی نفی ہے۔