ظہور دھریجہ کا اعلان: باغات کے قاتلوں کے خلاف قانون سازی ہو، سرائیکی وسیب کا مقدمہ جاری رہے گا
ملتان(صفدربخاری سے) مینگو فارمر کو ایکسپورٹ کی سہولتیں دی جائیں، وسیب کے تمام مسائل کا حل صوبہ سرائیکستان ہے، نا انصافیوں پر خاموش نہیں رہیں گے۔ ان خیالات کا اظہار سرائیکستان قومی کونسل کے زیر اہتمام ملتان پریس کلب میں منعقدہ سرائیکستان مینگو کانفرنس سے سرائیکی رہنماؤں ظہور دھریجہ، ڈاکٹر مقبول حسن گیلانی، رانا محمد فراز نون، ڈاکٹر نعمان طیب چنگوانی، ملک شہزاد ارائیں، مسیح اللہ جامپوری، ڈاکٹر ظفر ہانس، ملک اقبال نانڈلہ، پروفیسر محسن بلوچ، اکبر خان کھوسہ، پروفیسر پرویز قادر خان، انجینئر اسماعیل بھٹہ، پروفیسر غلام محمد غازی،ملک جاوید چنڑ ایڈووکیٹ، شریف خان لاشاری،و دیگر نے خطاب کیا، معروف کمپیئر بلال بزمی نے نظامت کے فرائض سر انجام دئیے۔سرائیکی شعرا جاوید شانی، ظفر مسکین، اسد ملک، ناظر جلال پوری، سانول صائق، سہیل خادم سیال و دیگر نے کلام سنایا۔اس موقع پر سرائیکی سنگر ثوبیہ ملک، اشرف پٹھانے خان نے گیت سنائے۔ تقریب میں معروف سماجی رہنما سلیم درباری، چوہدری شہباز مڑل، ڈاکٹر حسان چنگوانی، صغیر احمدانی، علامہ طیب کھیڑا، روبینہ بخاری انجم پتافی، خواجہ حبیب احمد، تاج ملتانی، پروفیسر طارق شاہ قادری، محمد خان بھکر، ملک عثمان غنی کے علاوہ کسانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ظہور دھریجہ نے کہا کہ باغات کو ختم کر کے ہاؤسنگ سکیمیں بنائی جا رہی ہیں جس کے نتیجے میں موسمیاتی تبدیلیاں خوفناک صورت میں سامنے آ رہی ہیں، سرائیکی صوبہ بننے پر قانون سازی کی جائے کہ باغات کو کاٹ کر ہاؤسنگ سکیمیں بنانا تعزیراتی جرم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آم کی ملکی مجموعی پیداوار کا 70 فیصد سرائیکی خطہ میں پیدا ہوتا ہے، سرائیکی وسیب قدرتی طور پر ہمیشہ سے باغات کی سرزمین چلی آ رہی ہے، وسیب کے مرکزی شہرملتان کو پوری دنیا میں ”مینگو سٹی“کے نام سے پہچانا جاتا ہے مگر ہاؤسنگ سکیموں کے آنے سے آموں کے باغات کے پیڑقتل ہو رہے، صورتحال دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ظہور دھریجہ نے اس موقع پر سرائیکستان رابطہ مہم کے دوسرے مرحلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگلا مرحلہ ملتان سے جھنگ کا ہوگا اور شیڈول کا اعلان بہت جلد کر دیا جائے گا۔ ڈاکٹر مقبول گیلانی نے کہا کہ آم کا قومی دن پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش اور جنوبی ایشیاء میں منایاجاتا ہے، دیگر ممالک کی حکومتیں اسے تہوار کے طور پر مناتی ہیں مگر ہمارے ملک پاکستان میں بے حسی ہے، بنگلہ دیش کی طرح پاکستان میں بھی آم کے درخت کو قومی درخت کا درجہ دیا جائے، انہوں نے کہا کہ سرائیکی وسیب میں ایگریکلچرل بیسڈ انڈسٹری قائم کی جائے، ٹیکس فری انڈسٹریل زون قائم کئے جائیں۔ رانا محمد فراز نون نے کہا کہ تخت دہلی یا تخت لہور سے جو حملہ آوروں بھی آیا اس نے یہاں کے شہروں کے ساتھ باغات کو بری طرح اجاڑا مگر یہ سب کچھ ہونے کے باوجود وسیب کے کاشتکاروں نے اپنے وسیب کوپھر گلستان بنایا مگر حکومت کی طرف سے ان کو کسی قسم کی سہولت مہیا نہیں کی جاتی۔ ڈاکٹر نعمان طیب چنگوانی نے کہا کہ ایک طرف درخت کاٹے جا رہے ہیں دوسری طرف ایسی صنعتیں قائم ہو رہی ہیں جو وسیب میں ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن رہی ہیں جس سے کینسر جیسے مہلک امراض پھیل رہے ہیں۔ فطری موسمی تبدیلی سے عہدہ برآ ہوا جا سکتا ہے مگر فطرت سے جنگ کرتے ہوئے باغات کو ختم کریں گے تو موسموں سے مقابلہ نہیں ہو سکے گا۔ تقریب کے میزبان ملک اقبال نانڈلہ نے کہا کہ آم کے جوس کے کارخانے وسیب میں قائم ہونے چاہئیں، دوست احباب کو آم کی سوغات بھیجنا اور آم کھلانا سرائیکی وسیب کی قدیم روایت ہے، سرائیکی وسیب آم کا اصل وطن ہے۔ انہوں نے سرائیکستان قومی کونسل کے سربراہ ظہور دھریجہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ وسیب کا مقدمہ پوری جرأت سے لڑ رہے ہیں اور ان کی پوری زندگی سرائیکستان کے لیے وقف ہو چکی ہے۔ ملک شہزاد ارائیں نے کہا کہ ملتان میں آم کے بہت بڑے باغات ہیں مگر باغ کے مالکان کو ایکسپورٹ و دیگر سہولتیں حاصل نہیں جس کے باعث آم کے باغات اُجڑ رہے ہیں، چند سالوں میں 15سے 20ہزار ایکڑ رقبے پر موجودہ آم کے باغات ختم ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹر ظفر ہانس نے کہا کہ زمانہ قدیم سے آم کا مرکز سرائیکی وسیب ہے اور یہیں سے آم ہندوستان کے دوسرے شہروں میں پہنچا اور پھر پوری دنیا میں چلا گیا مگر افسوس کہ آم پیدا کرنے والا خطہ صدیوں سے مشکلات کا شکار چلا آ رہا ہے۔ملک جاوید چنڑنے کہا کہ باغات کے کٹنے سے ماحولیاتی آلودگی بڑھ رہی ہے، موسمیاتی تبدیلی میں بھی شدت آ رہی ہے، یہ صورتحال دیکھ کر دل خون کے آنسو روتاہے، وسیب آم کے باغات کو کاٹا جا رہا ہے جس پر ہمیں دلی صدمہ ہے، سرائیکی خطہ کو زرعی پیداوار اور باغات کی وجہ سے جنت (بہشت بریں)کہا گیا مگر یہ خطہ ہمیشہ سے حملہ آوروں کی زد میں رہا۔ انہوں نے سرائیکستان قومی کونسل کے چیئرمین ظہور دھریجہ کو مبارکباد دی کہ سرائیکستان رابطہ مہم کے بعد سرائیکستان مینگو کانفرنس کے حوالے سے موثر کانفرنس منعقد کی گئی ہے، سرکاری کانفرنسوں میں کروڑوں خرچ ہوتے ہیں مگر نتیجہ صفر ہوتا ہے جبکہ یہ کانفرنس ہر حوالے سے ایک بامقصد اور کامیاب رہی ہے۔






































Visit Today : 440
Visit Yesterday : 511
This Month : 10834
This Year : 58670
Total Visit : 163658
Hits Today : 5051
Total Hits : 804477
Who's Online : 3






















