ملتان(صفدربخاری سے) جمعیت علمائے اسلام ضلع ملتان کی مجلس شوریٰ کے رکن، یونٹ شیخ الہند کے امیر اور مدرسہ ابی بن کعب بدھلہ روڈ کے مہتمم مولانا محمد یاسین شفیقی اور ان کی دو ہمشیرہ ایک المناک حادثے میں جاں بحق ہو گئیں۔ حادثہ خانیوال روڈ پر سہو چوک کے قریب پیش آیا، جہاں سبزی سے لوڈ ایک ڈالہ، مبینہ طور پر ون وے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، مولانا یاسین شفیقی کی کھڑی گاڑی پر الٹ گیا۔ اس دلخراش واقعے میں تین قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔ جمعیت علمائے اسلام ملتان کی تمام مجالس (عاملہ، شوریٰ اور عمومی) کے ذمہ داران و عہدے داران نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سانحہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔ اس موقع پر جے یو آئی ملتان کے امیر مفتی عامر محمود، جنرل سیکرٹری نور خان ہانس، ضلعی سرپرست حافظ محمد عمر شیخ، ناظم اطلاعات رانا محمد سعید، سٹی امیر قاری محمد یاسین اور سٹی جنرل سیکرٹری مفتی محمد یوسف مدنی نے ایک مشترکہ بیان میں حکومت و انتظامیہ سے شدید احتجاج کیا۔ انہوں نے کہا کہ بائی پاس چوک اور سہو چوک کے درمیان ون وے کی خلاف ورزیاں معمول بن چکی ہیں، جن کے باعث آئے روز حادثات رونما ہو رہے ہیں۔ انتظامیہ اور ٹریفک پولیس کی غفلت اور لاپروائی سے اب تک کئی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ جے یو آئی رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ حادثے میں ملوث ڈرائیور کو فوری گرفتار کر کے قانونی کارروائی کی جائے، اور خانیوال روڈ پر مستقل بنیادوں پر ٹریفک اہلکار تعینات کیے جائیں تاکہ ون وے کی خلاف ورزی پر مؤثر کنٹرول اور آئندہ حادثات کی روک تھام ممکن ہو۔ مزید کہا گیا کہ انتظامیہ اگر سنجیدگی سے کارروائی کرے تو ایسے المناک واقعات کی روک تھام ممکن ہے، بصورت دیگر عوام کا غصہ شدت اختیار کر سکتا ہے۔