ملتان: بزمِ ندیم کے بانی و سرپرستِ اعلیٰ پروفیسر ندیم نے کہا ہے کہ بزمِ ندیم نوجوان شاعروں کی پسندیدہ ادبی تنظیم بن چکی ہے۔ شاعروں کی فکری و فنی اصلاح، وقت کی پابندی اور باقاعدہ ادبی سرگرمیوں کی بدولت اس کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بزمِ ندیم کے 106ویں مشاعرے کے موقع پر کیا۔ تقریب کے صدر ڈاکٹر دلشاد رانا اور قطر سے آئے ہوئے معروف شاعر انور علی رانا نے اپنے خطاب میں کہا کہ بزمِ ندیم اب صرف ایک ادبی پلیٹ فارم نہیں بلکہ ملتان کی ادبی پہچان بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تنظیم نے مشاعروں کو ایک نیا وقار دیا ہے، یہاں سے اب باصلاحیت شاعر ابھر رہے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر بھی بزم کا چرچا ہو رہا ہے۔ موجودہ گھٹن زدہ ماحول میں یہ ادارہ تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو رہا ہے۔ تقریب کے مہمانِ اعزاز یحییٰ سرور چوہان نے بزمِ ندیم کو مشاعروں کے فروغ کے لیے ایک خوش آئند اضافہ قرار دیا۔ مشاعرے میں جن شعراء نے اپنا کلام پیش کیا ان میں تانیہ عابدی، شازیہ کنول، صائمہ صائمی، آصف بٹ، سلیم قاسط، احسان ماہی، عابد غازل، خلیفہ مسرور صدیقی، احمد مسعود قریشی، مونس ہاشمی، کامران سہو، افضل میر افضل، محمد علی باہوش اور اشرف جاوید شامل تھے۔ مشاعرے کی نظامت پروفیسر ڈاکٹر مقبول گیلانی نے کی، جبکہ تلاوت قاری فہیم اور نعت معروف نعت خواں منظور احمد اعوان نے پیش کی۔ ادبی حلقوں نے بزمِ ندیم کے اس تسلسل اور خالص ادبی ماحول کو سراہتے ہوئے اسے ملتان کی ادبی ترقی کا مظہر قرار دیا۔