ملتان (صفدربخاری سے) بی بی سی ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ پریس کانفرنس میں قانونی ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے وفاقی و صوبائی محتسب اداروں کی غیر مؤثر کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیگل ایڈوائزرسید شمشاد علی رضوی ایڈوکیٹ ، عمارہ طاہر بلوچ ایڈوکیٹ ، رانا ساجد ایڈووکیٹ ، انفارمیشن سیکرٹری پاکستان غضنفرملک اور کلب عابد خان نے کہا ہے وفاقی اور صوبائی محتسب جیسے ادارے غیر فعال ہوکر رہ گئے ہیں واپڈا، سوئی گیس اور محکمہ مال و ریونیو اور محکمہ تعلیم جیسے اداروں کی بےضابطگیوں کے خلاف شہری وفاقی اور صوبائی محتسب جیسے اداروں کو درخواست دیتے ہیں طویل انکوائری سسسٹم کے بعد جب اداروں کو حکم دیا جاتا ہے کہ سائل شہری کی شکایات کا ازالہ کیا جائے تو ادارے وفاقی یا صوبائی محتسب اداروں کے حکم کو خاطر میں نہیں لاتے یہ صورت حال افسوس ناک اور قابل مذمت ہے مذید محتسب اداروں کی جانب سے جواب یہ ملتا ہے کہ ادارے نے تو سائل شہری کے حق میں حکم دے دیا ہے اگر محکمہ عملدرآمد نہیں کررہا تو محتسب ادارہ کیا کرسکتا ہے صوبائی محتسب میں فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے پر گورنر پنجاب کو درخواست بھیجی جاتی ہے وہاں سے فیصلہ اگر سائل کے حق میں آ جائے تو کوئی طریقہ کار نہیں ہے کہ اس فیصلے پر عملدرآمد کرایا جا سکے ایسی ہی صورت حال وفاقی محستب کے فیصلوں کی ہے یہاں سے سائل کو ریلیف مل جائے تو وفاقی محتسب عملدرآمد نہیں کروا سکتی پھر صدر پاکستان کو اپیل بھیجی جاتی ہے وہاں سے بھی فیصلہ سائل کے حق میں آنے کی صورت میں محکمہ جات ان کے احکامات ماننے سے انکار کرتے ہیں ان حالات کی وجہ سے ہزاروں سائل شہریوں کو عدالتوں سے رجوع کرنا پڑتا ہے یوں لگتا ہے وفاقی اور صوبائی محتسب جیسے ادارے بھی محکموں کے افسران کے تحفظ کا کردار ادا کررہے ہیں شہریوں کے بنیادی مسائل میں اضافہ تشویش ناک ہے صدر پاکستان اور گورنر پنجاب کو چاہیے کہ وفاقی اور صوبائی محتسب اداروں کو فعال اور سزا و جزا کے عمل کو سخت کیا جائے یا ان محتسب اداروں کی ڈاؤن سائزنگ کرکے ملک اور قوم کے کروڑوں روپے جو ان اداروں کے پروٹوکول اور انتظامی امور پر خرچ کیے جارہے ہیں وہ بچت کرکے مناسب سخت اقدامات کیے جائیں اگر سائل شہریوں کو عدالتوں سے ہی انصاف حاصل کرنا ہے تو ان اداروں کا وجود عوام پر بڑا بوجھ ہے۔