ملتان : پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور معروف قانون دان بیرسٹر ملک محمد عثمان ڈوگر نے 9 مئی کے واقعات سے متعلق انسدادِ دہشت گردی عدالت سرگودھا کے حالیہ فیصلے کو ملکی تاریخ کے متنازعہ اور سیاہ ترین عدالتی فیصلوں میں شامل قرار دیا ہے۔ ملتان سے جاری اپنے مذمتی بیان میں بیرسٹر عثمان ڈوگر نے کہا کہ عدالت کی جانب سے تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کو سنائی گئی سزائیں “قانونی تقاضوں کو پورا کیے بغیر” دی گئی ہیں۔ ان کے مطابق، یہ فیصلے صرف سیاسی کارکنوں کے خلاف نہیں بلکہ درحقیقت جمہوریت کے خلاف دیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ “صوبائی اپوزیشن لیڈر ملک احمد بچھڑ، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز احمد چودھری، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید، احمد چھٹہ، رانا بلال اور دیگر کارکنان کو دس، دس سال قید کی سزا دینا دراصل جمہوریت کا قتل ہے۔ بیرسٹر ڈوگر نے اپنے بیان میں متنبہ کیا کہ اس نوعیت کے فیصلے تاریخ میں مکافاتِ عمل کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔

واضح رہے کہ انسدادِ دہشت گردی عدالت سرگودھا نے حالیہ دنوں میں 9 مئی 2023 کے پرتشدد واقعات کے تناظر میں متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کو مختلف سزائیں سنائی ہیں، جن پر ملک بھر میں بحث جاری ہے۔