اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ اداروں کی ناانصافی، سنجیدہ سوالات جنم لینے لگے

تحریر: کلب عابد خان
03009635323

اوورسیز پاکستانیوں کو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جاتا ہے، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ انہی محنت کشوں کو پاکستان میں شدید قسم کی انتظامی اور عدالتی ناانصافیوں کا سامنا ہے۔ بیرونِ ملک بسنے والے پاکستانیوں کی شکایات کے ازالے کے لیے قائم ادارے خود بے اختیار اور غیر فعال ہو چکے ہیں۔میرے ماموں مسرت حسین صدیقی ، جو گزشتہ چالیس برس سے سعودی عرب میں مقیم ہیں اور فیملی کے ہمراہ محنت مزدوری کے ذریعے رزقِ حلال کما کر پاکستان بھجوا رہے ہیں، متعدد بار وطن واپس آ کر کاروبار کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں کئی جائیدادیں خریدیں، جن میں سے کچھ کرایہ پر بھی ہیں، اور انہی جائیدادوں کی آمدنی سے وہ ہر سال لاکھوں روپے کا ٹیکس حکومت پاکستان کو ادا کر رہے ہیں۔جب ماموں مسرت حسین صدیقی نے ان جائیدادوں کو کمرشل کروانے اور تعمیراتی منظوری کے لیے ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے رجوع کیا تو انہیں سنگین بے حسی کا سامنا کرنا پڑا۔ جائز کام کے لیے بھی رشوت کا تقاضا، بار بار اعتراضات اور تاخیری حربے ادارے کا معمول بن چکے ہیں۔
حالانکہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پنجاب حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب قائم کیا ہے۔ یہ ادارہ 24 اکتوبر 2014 کو پنجاب اسمبلی سے منظور اور 10 نومبر کو پنجاب گزٹ میں شائع ہوا۔ لیکن ماموں مسرت حسین صدیقی نے جب اوورسیز کمیشن پنجاب میں اپنی شکایات درج کروائیں تو وہاں بھی مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔ شکایات پر کاروائی کی بجائے متعلقہ اداروں کی من گھڑت رپورٹس کی بنیاد پر کیسز بند کر دیے گئے۔اوورسیز پاکستانی ڈسٹرکٹ کمیٹیاں جنہیں شکایات کے حل کے لیے فعال کردار ادا کرنا تھا، وہ بھی نمائشی حیثیت اختیار کر چکی ہیں۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) کو بطور فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے، لیکن شکایت کنندگان کو نہ بلایا جاتا ہے، نہ ہی ان سے رابطہ کیا جاتا ہے۔ فوکل پرسن اور شکایت کنندہ کے درمیان کوئی براہِ راست مکالمہ نہیں ہوتا۔حیرت انگیز طور پر کمیشن کا عملہ بھی بے بسی کا اظہار کرتا ہے اور عدالت سے رجوع کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔ اگر ادارے واقعی بے اختیار ہیں تو ان کے قیام کا مقصد کیا رہ جاتا ہے؟ کیا یہ ادارے صرف سیاسی تشہیر کے لیے بنائے گئے ہیں؟
جب متاثرہ شخص عدالت سے رجوع کرتا ہے تو اوورسیز کمیشن پنجاب شکایت بند کر دیتا ہے، یہ کہہ کر کہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ عدالتوں میں بھی برسوں مقدمات التوا کا شکار رہتے ہیں اور انصاف ناپید ہو چکا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج اوورسیز پاکستانی پاکستان واپس آ کر سرمایہ کاری کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ میرے ماموں مسرت حسین صدیقی جیسے ہزاروں افراد اب اپنی جائیدادیں فروخت کر کے سرمایہ بیرونِ ملک منتقل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب حکمران خود اپنے کاروبار اور اہلِ خانہ کو ملک سے باہر رکھتے ہیں تو عام اوورسیز پاکستانی یہاں آ کر کیوں مشکلات جھیلے؟
حکومت اگر واقعی اوورسیز پاکستانیوں کو اپنا اثاثہ سمجھتی ہے تو اوورسیز پاکستانیز کمیشن جیسے اداروں کو بااختیار اور مؤثر بنانا ہوگا۔ بصورتِ دیگر، نہ صرف سرمایہ پاکستان سے باہر چلا جائے گا بلکہ وطن واپس آنے کا خواب بھی خواب ہی رہ جائے گا