اسلام آباد: تحفظ ناموس رسالت ﷺ سیمینار،،،عدالتی فیصلے کو مسترد، قانون میں مداخلت ناقابل قبول قرار
اسلام آباد،لاہور،ملتان،فیصل آباد: ناموس رسالت ﷺ کے قانون میں مداخلت کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہیں نیز قانون ناموس رسالت کا تحفظ اور گستاخان رسول کا تعاقب صبح قیامت تک جاری رہے گا ان خیالات کا اظہار جماعت اہلسنت کے مرکزی نائب ناظم اعلی اول پروفیسر حمزہ مصطفائی، پیر محمد گلزار نقشبندی، مولانا قاری محمد اسلم ضیائی، صاحبزادہ محمد عثمان غنی، صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی، لیگل کمشن آن بلاسفیمی کے صدر نشیں راو عبدالرحیم ڈاکٹر اشتیاق ایڈوکیٹ کے علاوہ جمعیت علماء اسلام، انجمن طلباء اسلام، تحریک لبیک پاکستان، مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن، تحریک منہاج القرآن، تنظیم اسلامی، علماء دیوبند، علماء اہل تشیع، جمعیت اہل حدیث کے قائدین، ایڈووکیٹس سپریم کورٹ علاوہ علماء و مشائخ خصوصا پیر سید کوثر علی شاہ صاحب چراہ شریف، سائیں خاور سرکار، معروف اسکالر پروفیسر ڈاکٹر اورنگزیب ہادی گوجرانوالہ، کرنل اشفاق راولپنڈی، مصطفائی تحریک کے رکن مرکزی شوری محمد اسلم الوری، پرائیویٹ اسکول مینیجمنٹ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری پروفیسر ابرار احمد خان، طالب علم راہنما بلال ربانی، محسن خان، ایڈوکیٹ سپریم کورٹ خرم قریشی، ایڈووکیٹ تیمور وحید، اسد ایڈووکیٹ، ملک ثاقب ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، قاضی عادل عزیز ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، مولانا حافظ مقصود احمد جمعیت اہلحدیث، جے یو آئی کے راہنما مفتی محمد عبد اللہ، علامہ قاری مقبول صدیقی ڈویژنل ناظم اعلی مصطفائی تحریک، جماعت اہلسنت پاکستان کے امیر راولپنڈی ڈویژن پیر سید قدیر حسین شاہ کاظمی، امیر ضلع جہلم مولانا عصمت اللہ سیالوی، ضلع اٹک کے امیر مولانا زاھد محمود صدیقی، أرگنائزر مولانا شیر زمان چشتی، ناظم اعلیٰ شہزاد احمد ھزاروی، أرگنائزر ضلع راولپنڈی مولانا محمد اقبال رضوی، ضلعی ناظم تعلیم مولانا ظھور احمد نقیبی، ضلعی ناظم نشرواشاعت مولانا حبیب احمد ضیائی، امیر تحصیل راولپنڈی خلیفہ حامد نواز نقشبندی، امیرتحصیل کہوٹہ مولانا محمد افضل رضوی اور کثیر تعداد میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے شرکت کی۔ آج اسلام آباد میں منعقد ہونے والے ”آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت سیمینار” کا مقصد قانونِ ناموسِ رسالت ﷺ کے خلاف اٹھنے والی سازشوں کا متحد ہو کر مقابلہ کرنا تھا۔ شرکاء نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق صاحب کی جانب سے حالیہ عدالتی فیصلے کو مکمل طور پر یکطرفہ، غیر آئینی، اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے اسے متفقہ طور پر مسترد کر دیا۔ سیمینار کے متفقہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق کا فیصلہ توہین رسالت کے مجرموں کے لیے راہ فرار کا چور دروازہ کھولنے کے مترادف ہے، جو کسی طور قبول نہیں۔ عدالت کے فیصلے میں بعض نکات غیر مصدقہ، بے بنیاد اور حقیقت کے خلاف ہیں، جس کی بنا پر معزز جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ سیمینار میں قرار دیا گیا کہ اگر گستاخی کے کسی کیس میں مدعی یا گواہ کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری عدالت اور بلاسفیمی پروٹیکشن گینگ کے ذمہ داروں اور سہولت کاروں پر عائد ہو گی۔ مطالبہ کیا گیا کہ سوشل میڈیا پر موجود گستاخانہ مواد کو فوری اور مکمل طور پر ہٹانے اور مستقل روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ نیز ایف آئی اے کی روکی گئی گرفتاریاں فوری بحال کی جائیں اور ملزمان کو قانون کے مطابق ٹرائل کا سامنا کرنے دیا جائے۔ اسی طرح تمام ٹرائل کورٹس کو ہدایت دی جائے کہ گستاخی کے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر جلد مکمل کریں۔ متفقہ اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ گستاخی مذہب کے جن ملزمان کو ضمانت پر رہا کیا گیا ہے، انہیں ملک سے فرار ہونے سے روکا جائے۔ نیز نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی(این سی سی آئی اے) میں بلاسفیمی کو روکنے کے لیے ایک خود مختار اور بااختیار محکمہ قائم کیا جائے۔ مزید برآں وفاقی حکومت کی چھ وزارتوں اور دس اداروں کی جانب سے عدالتوں میں جمع کروائے گئے انسداد گستاخی ایکشن پلان پر فوری عملدرآمد کیا جائے۔ اسی طرح اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر بلا تاخیر عمل کیا جائے۔ تحفظ ناموس رسالت سیمینار نے قرار دیا کہ عدالت کا یہ فیصلہ کہ وہ مجوزہ متنازعہ کمیشن کی مسلسل نگرانی خود کرے گی، غیر قانونی ہے۔ اس کے بجائے حکومت ایک ایماندار افسران پر مشتمل JIT تشکیل دے تاکہ جو بے گناہ ہو، وہ میرٹ پر اپنی صفائی دے کر ریلیف لے سکے۔ کانفرنس کے اختتام پر قائدین نے اس بات پر زور دیتے ہوئے اعادہ کیا کہ قانون ناموس رسالت ﷺ نہ صرف پاکستانی مسلمانوں کا بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کا ایمانی اور قومی مسئلہ ہے، جس میں کسی ترمیم، کمزوری یا سیاسی مصلحت یا عدالتوں کے ذریعے اس کو غیر موثر بنانے کی کسی سازش کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مزید برآں، جماعت اہلسنت پاکستان نے اعلان کیا کہ تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے لیے آئندہ بھی قانونی، آئینی اور پرامن جدوجہد جاری رکھی جائے گی، اور جو بھی اس قانون کو کمزور کرنے کی کوشش کرے گا، اسے عوامی اور ملی سطح پر سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔







































Visit Today : 168
Visit Yesterday : 443
This Month : 11005
This Year : 58841
Total Visit : 163829
Hits Today : 1650
Total Hits : 806157
Who's Online : 8






















